پاکستان کے زرعی انفراسٹرکچر، وفاقی ریگولیٹری مانیٹرنگ، فوڈ سیکیورٹی اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے عام صارفین اور کسانوں کے لیے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی معاشی تعطل سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے گندم کے نئے سیزن کے لیے صوبوں سے گندم کی سرکاری امدادی قیمت پر سفارشات طلب کی ہیں جس میں سندھ نے 5,000 روپے فی من (40 کلوگرام) جبکہ پنجاب نے 4,200 روپے فی من مقرر کرنے کا اسمارٹ پلان پیش کیا ہے۔
7 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے آفیشل لاگز کے مطابق اس ریگولیٹری مہم کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر گندم کی حمایتی قیمت پاکستان کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ حکومت اس وقت شدید فیسکل دباؤ کے تحت غور کر رہی ہے کہ آیا بڑھتی ہوئی لاگت پر پبلک سبسڈیز پے کی جائیں یا پورا بوجھ براہِ راست اوپن مارکیٹ کے عوام پر منتقل کر دیا جائے۔ درآمد شدہ گندم اخراجات کے بعد پہلے ہی 345 ڈالر فی ٹن یعنی 5,000 روپے فی من پر آٹو لاک ہے جس پر مقامی کسان مینوئل احتجاج کر رہے ہیں کہ مقامی گندم پچھلے سیزن میں 3,500 روپے پر ہالٹ تھی جبکہ اس میں گلوٹین کی مقدار 25 فیصد ہے جو امپورٹڈ گندم کے 23 فیصد سے کہیں بہتر ہے۔
امپورٹ ٹینڈر اور صوبائی مختص کوٹے کا آڈٹ
آئی ٹی مینیجرز کے مطابق اب تک 215,000 ٹن گندم امپورٹ کی جا چکی ہے جس میں سے 100,000 ٹن خیبر پختونخوا اور 115,000 ٹن سندھ کے کلاؤڈ ڈیٹا بیس میں سنک کی گئی ہے۔ مزید 200,000 ٹن گندم کی خریداری کے لیے امپورٹ ٹینڈر دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے جس سے اینٹی چیٹنگ رولز کے تحت سپلائی چین کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جائے گا۔






