پاکستان کے وفاقی لاجسٹک انفراسٹرکچر، انرجی سیکٹر ایڈمنسٹریشن، پبلک سروس ڈیلیوری، اور میکرو اکانومی کے تزویراتی کوریڈورز سے سردیوں کے موسم میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک انتہائی اہم، ہنگامی اور بڑا انتظامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور کارپوریٹ مینیجرز کو سخت ریگولیٹری ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ موسمِ سرما کے لیے ایک جامع اور فول پروف گیس لوڈ مینجمنٹ حکمتِ عملی ترجیحی بنیادوں پر وقت سے پہلے تیار کی جائے تاکہ سردیوں کے بحران کو آٹو لاک کیا جا سکے۔
6 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں سرمائی انرجی پلاننگ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری کردہ آفیشل لاگز کے مطابق اس فلیگ شپ ریفارم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر سرمائی گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جیو پولیٹیکل علاقائی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مائع قدرتی گیس کی بلا تعطیل درآمدات کو یقینی بنانا ریاست کی سب سے اولین ترجیح ہے۔ اس پراجیکٹ کا بنیادی ہدف سپلائی چین کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کرنا اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور بہترین گورننس انڈیکس مستقل طور پر فروغ دینا ہے۔
گھریلو صارفین کے لیے لوکل گیس اور آر ایل این جی الاٹمنٹ کا آڈٹ
اجلاس کے دوران ریگولیٹری مینیجرز کی جانب سے پورٹل پر لائیو سنک کی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق گیس کی سپلائی کو دو اسمارٹ مینوفیکچرڈ کیٹیگریز کے الائنمنٹ گرڈ میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ٹیکنیکل شارٹ فال کا خدشہ صفر کیا جا سکے۔
ایندھن کی تقسیم اور نئے بینکنگ مائنڈ سیٹ کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک ہے:
| انرجی ریسورس لاگ کوڈ | تفویض کردہ ترجیحی کسٹمر بیس | آپریشنل و ریگولیٹری مانیٹرنگ پروٹوکول |
| مقامی قدرتی گیس | خالص گھریلو صارفین | سردیوں میں چولہے چلانے کیلیے اولین ترجیح ۔ |
| درآمد شدہ آر ایل این جی | بجلی کی پیداوار اور بڑی صنعتیں | فیکٹری پروڈکشن اور کیش لیس ریوینیو گروتھ۔ |
| شمالی علاقہ جات کے ذخائر | بلاتعطل ٹرانسمیشن گرڈ انفراسٹرکچر | نادرا اور جیو لوکیشن کلاؤڈ اسکیننگ الرٹس۔ |
| الیکٹرک اپلائنسز اسکیم | واٹر اور اسپیس ہیٹرز کے لیے | بینک فنانسنگ کی اسمارٹ تجویز زیرِ غور۔ |
الیکٹرک اپلائنسز کے لیے بینک فنانسنگ اور پبلک اویئرنس مہم
وزیراعظم نے اسمارٹ پبلک ویلفیئر موو کے تحت ملک گیر سطح پر ایک وسیع پبلک اویئرنس مہم لاؤنچ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ شہریوں کو صرف مقامی گیس پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل توانائی کے ذرائع اپنانے کی طرف راغب کیا جا سکے۔
سب سے بڑا بریک تھرو یہ سامنے آیا ہے کہ حکومت اراضی مالکان اور عام شہریوں کے لیے سردیوں میں پانی اور کمرے گرم کرنے والے الیکٹرک ہیٹرز کی خریداری آسان بنانے کے لیے آسان اقساط پر بینک فنانسنگ کی اسمارٹ سہولت متعارف کرانے کی تجویز پر کڑی مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ یہ مربوط اور پیپر لیس فریم ورک ملکی فیسکل لکویڈیٹی برقرار رکھنے اور صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے جس کا حتمی پلان پائپ لائن میں لاک ہے۔






