پاکستان کے ہوا بازی کے انفراسٹرکچر، بارڈر کنٹرول ریگولیٹری مانیٹرنگ، وسطی ایشیائی تجارتی کوریڈورز اور میکرو اکانومی کے تزویراتی زونز سے علاقائی رابطوںکو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور پریمیم معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور ترکمانستان کی حکومتیں اسلام آباد اور عشق آباد کے مابین کارگو اور کمرشل براہِ راست پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کے انقلابی منصوبے پر کڑی مانیٹرنگ اور مشاورتی سیشنز کر رہی ہیں تاکہ روایتی زمینی راستوں کے تعطل کو یکسر فیز آؤٹ کیا جا سکے۔
6 اکتوبر 2026 کو وزارتِ تجارت اور وفاقی مینیجرز کے پورٹلز پر لائیو سنک ہونے والے آفیشل دستاویزی لاگز کے مطابق اس تزویراتی ہوا بازی مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاک ترکمانستان براہ راست پروازیں تجارت کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر سرگرم ہو چکا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر سبز علی خان کے مطابق موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے میں جب افغانستان کے راستے روایتی سڑکیں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، یہ فضائی کوریڈور دونوں ممالک کے مابین تجارتی لکویڈیٹی کو بڑھانے کا ایک تیز ترین سوفٹ وئیر بیسڈ متبادل بنے گا جو بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سوفٹ امیج اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کا گراف مستقل طور پر بلند کرنے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کیا گیا ہے۔
7 ملین ڈالر کی باہمی تجارت اور بارڈر کراسنگ تاخیر کا آڈٹ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جغرافیائی قربت کے باوجود مالیاتی سال 2025-26 کے دوران دونوں برادر ممالک کے مابین کل باہمی تجارت کا فیسکل والیم محض 7.05 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کیا گیا جس میں پاکستان کی برآمدات 1.18 ملین ڈالر اور درآمدات 5.87 ملین ڈالر پر ہالٹ تھیں۔ اس سست مینوئل تجارتی انڈیکس کی بڑی وجہ زمینی راستوں پر ٹرکوں کی کلیئرنس کا ہولناک ڈاؤن ٹائم ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے کیرک کوریڈور مانیٹرنگ ڈیٹا کا بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق آٹو لاک ہے:
| ریجنل لاجسٹک انڈیکیٹر لاگ | سال 2010 کا مینوئل بیس لائن | سال 2024 کا مینوفیکچرڈ لاگ | اے ڈی بی فنڈنگ کٹس پروٹوکول |
| روڈ بارڈر کراسنگ ٹائم | 6.3 گھنٹے فی گاڑی | 14.1 گھنٹے کی ہولناک تاخیر | بارڈر ماڈرنائزیشن کی سخت اسکرٹنی۔ |
| علاقائی لاجسٹک سہولت فنڈ | ابتدائی ری مڈلنگ فیز | کلاؤڈ انٹیگریشن لاگ | 400 ملین امریکی ڈالر کا میگا پراجیکٹ۔ |
| ملٹی ماڈل کارگو ماڈل | کراچی پورٹ مرکز | اسلام آباد، لاہور، گوادر تک وسعت | ایئر، روڈ اور میری ٹائم کا مربوط ہینڈ شیک |
|
ازبکستان ٹرانزیکٹ ماڈل اور عرب سمندر کوریڈور کا فیوچر روڈ میپ
انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ چیمبر آف پاکستان کے بانی صدر رانا آصف خان نے پینل پر لائیو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کو ازبکستان کے ساتھ اپنے ترجیحی تجارتی معاہدے اور ٹرانزٹ ٹریڈ پروٹوکولز کی طرح ترکمانستان کے ساتھ بھی اینٹی چیٹنگ اور پیپر لیس فریم ورک آٹو لاک کرنا ہوگا۔ ستمبر میں منگولیا کے مقام پر منعقدہ کیرک اجلاس کے دوران پاکستان نے کیرک کوریڈور 5 اور 6 کو مربوط اقتصادی کوریڈورز میں تبدیل کرنے کا اسمارٹ پلان پیش کیا تھا تاکہ وسطی ایشیا کو گوادر اور کراچی کے ذریعے براہِ راست بحیرہ عرب سے لنک کیا جا سکے۔ براہِ راست فضائی راستے قیمتی اور وقت کے لحاظ سے حساس کارگو اشیا پے کرنے کے لیے بہترین ریموٹ روڈ میپ ثابت ہوں گے جو ملکی ہیومن انڈیکس اور برآمدی رینکنگ کو مستقل طور پر اپ گریڈ کریں گے۔






