پاکستان کے لا انفورسمنٹ انفراسٹرکچر، داخلی امن و امان، صوبائی سیکیورٹی لاجسٹکس اور انسانی حقوق کی ریگولیٹری مانیٹرنگ کے تزویراتی کوریڈورز سے فرنٹ لائن سیکیورٹی فورسز کے مینوفیکچرڈ لاجسٹکس کے حوالے سے ایک افسوسناک، ہنگامی اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ اور امپیکٹ احتجاج کو روکنے کے لیے پنجاب بھر سے وفاق کی سیکیورٹی مانیٹرنگ گریڈز میں طلب کیے گئے پولیس اہلکاروں کو انتہائی ناقص اور غیر معیاری کھانا پے کیے جانے کا پریمیم لوپ ہول کھل کر سامنے آ چکا ہے۔
4 اکتوبر 2026 کے آغاز پر سوشل میڈیا پورٹلز اور میڈیا مینیجرز کے وائٹ لسٹڈ چینلز پر موصول ہونے والے لائیو ویڈیو لاگز کے مطابق اس سنسنی خیز لاجسٹک بحران کے فعال ہوتے ہی باقاعدہ طور پر پنجاب پولیس غیر معیاری کھانا احتجاج کا ڈیجیٹل کلاؤڈ ٹریکر لائیو متحرک ہو چکا ہے۔ راولپنڈی ریجن کے صنعتی کوریڈور واہ کینٹ میں فرنٹ لائن ڈیوٹی پر سرگرم سیکیورٹی اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی غذا کا آڈٹ کیا گیا تو اس میں مینوفیکچرنگ لیول کی سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں جس نے قانون نافذ کرنے والے کارپوریٹ مینیجرز کی ویلفیئر پالیسیوں کو یکسر ہالٹ کر دیا ہے۔
دال کے اندر کیڑے مکوڑے اور گیلانی اسکول میں سیکیورٹی اہلکاروں کا احتجاج
واہ کینٹ کے پریمیم لوکیشن سے لائیو فعال ہونے والی آفیشل ویڈیو فوٹیج کے مطابق بیرکوں میں پوزیشن سنک کیے گئے پولیس اہلکاروں کو کھانے میں جو دال فراہم کی گئی تھی اس کے اندرطور پر زندہ کیڑے مکوڑے اور سنڈیاں تیرتے ہوئے پائے گئے۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر فرنٹ لائن پر تعینات اہلکاروں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے مینوئل دباؤ کے بجائے اپنے سینیئر مینیجرز اور اعلیٰ افسران کو لائیو بلا کر اس شدید غیر انسانی سلوک پر کڑی شکایات درج کروائیں۔
سیکیورٹی فورسز کے اس لاجسٹک اور رہائشی فریم ورک کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن ٹیبل کے مطابق مینوفیکچر کیا گیا ہے:
| لاجسٹک آپریشنل پیرامیٹر لاگ | تعیناتی کا آفیشل لوکیشن | غذا کا آڈٹ اسٹیٹس | کونسل رولز کے تحت پروٹوکول |
| پنجاب پولیس فرنٹ لائن فورس | گیلانی اسکول واہ کینٹ کوریڈور | دال میں کیڑے اور سنڈیاں لاک | انسانی صحت کے اشاریوں کے خلاف مینوئل لوپ ہول |
| رہائشی لاگ ان کٹس | عارضی بیرکیں اور اسکول کیمپس | پینے کے صاف پانی کا شدید شارٹ فال | فنانشل کیش بلیڈ اور کرپشن کے خدشات |
| اینٹی اسمگلنگ سیکیورٹی | جی ٹی روڈ اور وفاقی داخلہ راستے | 24 گھنٹے لائیو پیٹرولینگ اسکوڈز | نادرا اور جیو لوکیشن کلاؤڈ سنک |
پولیس ویلفیئر فنڈز کا کیش بلیڈ اور بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج
کارپوریٹ اسپورٹس اور پبلک ویلفیئر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جہاں ایک طرف حکومتِ پنجاب اور وفاق کی جانب سے سیکیورٹی لاجسٹکس کے لیے اربوں روپے کے فنانشل فنڈز آٹو لاک کیے جاتے ہیں وہیں فرنٹ لائن اہلکاروں کو ایسا زہریلا کھانا پے کرنا نچلی سطح پر کلرک مافیا اور مینوئل اینٹی چیٹنگ رولز کی عدم موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔ عارضی طور پر گیلانی اسکول واہ کینٹ میں ٹھہرائے گئے ان افسران اور کانسٹیبلز کی صحت کو لاحق یہ خطرات ملکی پبلک ہیلتھ اور ہیومن رائٹس انڈیکس کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
آئی ٹی پی اور ٹریفک پولیس کی طرح پنجاب پولیس کی کمانڈ نے بھی اس وائرل سوفٹ وئیر بیسڈ ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے مینو فیکچرڈ کیٹرنگ مینیجرز کے خلاف سخت انکوائری لاگز فعال کرنے کا پراعتماد فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مینوئل لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کر کے بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کا سافٹ امیج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وقار مستقل طور پر برقرار رکھا جا سکے۔






