پاکستان کے مالیاتی ریگولیٹری انفراسٹرکچر، میکرو اکانومی اور بین الاقوامی اقتصادی کوریڈورز کے حوالے سے وفاق سے ایک انتہائی تزویراتی، دور رس اور بڑا فنانشل بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مابین 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے ریویو اور لچک و پائیداری سہولت کے تیسرے ریویو کے لیے باقاعدہ فائنل مذاکرات کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔
آج 28 ستمبر 2026 کو شروع ہونے والے اس اعلیٰ سطحی مشن کی قیادت آئی ایم ایف کی آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور یہ وفد اکتوبر کے پہلے ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس تزویراتی مرحلے کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان آئی ایم ایف قرض مذاکرات کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لائیو ہو چکا ہے۔ اگر یہ دونوں اہم ریویوز کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو نومبر کے آخر یا دسمبر کے اول تک ای ایف ایف کے تحت 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت مزید 200 ملین ڈالر یعنی مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر کی نئی فنانشل قسط حاصل ہو جائے گی جو ملکی معاشی اشاریوں کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گی۔
ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ایف بی آر کے نئے فنانشل پیرامیٹرز کا آڈٹ
آئی ایم ایف کے وفد اور وزارتِ خزانہ کے مینیجرز کے مابین ہونے والے ان اہم مذاکرات میں سب سے بڑا اور حساس ترین موضوع پاکستان کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا اور ریونیو شارٹ فال کے مینوئل لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہے۔
مذاکرات کے مینوفیکچرڈ پلان کے تحت درج ذیل تین بنیادی معاشی نکات پر کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی
صوبائی ریونیو لاگز کی اپ گریڈیشن: چاروں صوبوں کے مینیجرز آئی ایم ایف کو اپنے ٹیکس اور نان-ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے کے نئے سوفٹ وئیر بیسڈ کلاؤڈ سسٹمز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
اینٹی منی لانڈرنگ کریک ڈاؤن: قومی احتساب بیورو اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ حکام آئی ایم ایف کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اسمارٹ سیکیورٹی اقدامات پر بریف کریں گے۔
ایف بی آر ریفارمز کا نفاذ: فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے سیشنز میں نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور پیپر لیس ٹرانزیکشن لاگز کو آٹو لاک کرنے کے قوانین کا سائنسی جائزہ لیا جائے گا۔
پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ اور شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن کا لوپ ہول
آئی ایم ایف اور پاکستانی معاشی مینیجرز کے مابین مذاکرات کا دوسرا سب سے مشکل فیز توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو کم کرنا ہے۔ وزارتِ توانائی کا مینوئل پریفیس بالکل واضح ہے کہ پاور سیکٹر میں جاری فنانشل کیش بلیڈ کو روکنے کے لیے آٹو ٹریف انڈیکسنگ سوفٹ ویئر کے نفاذ کی دستاویزی رپورٹ پیش کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی جانب سے درج ذیل کلیدی معاشی اشاریوں پر سوالات اٹھائے جائیں گے
شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات: فنڈ کی جانب سے چینی کے شعبے کو مکمل طور پر آزاد نہ کرنے اور اس میں حکومتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
میکرو اکانومی اشاریوں کا آڈٹ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مینیجرز کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور ایکسچینج ریٹ کے لائیو لاگز کا سائنسی تقابل پیش کریں گے۔
اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پورے پروگرام پر عملدرآمد انتہائی مضبوط رہا ہے لیکن شوگر سیکٹر کی لبرلائزیشن اور صحت و تعلیم پر معاشی اخراجات بڑھانے جیسے ساختی ریفارمز تاحال مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی دنیا کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج اور طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح تسلیم کی گئی ہے۔






