جنوبی ایشیا کی ٹیکسٹائل مارکیٹ، بین الاقوامی تجارتی لاجسٹکس، اور علاقائی اقتصادی کوریڈورز کے مابین کارپوریٹ انضمام کے حوالے سے ڈھاکہ سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور تزویراتی معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ بنگلہ دیش میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کٹ ویئر مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (BKMEA) کے نومنتخب صدر محمد حاتم سے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی اور کاروباری ملاقات کی ہے۔
آج، 28 ستمبر 2026 کو منعقد ہونے والے اس اسمارٹ سیشن کا بنیادی محور پاک بنگلہ دیش ٹیکسٹائل تجارت کے حجم کو ریکارڈ حد تک بلند کرنا، اور دونوں ممالک کے مینوفیکچررز کے مابین سپلائی چین نیٹ ورکس کو ڈیجیٹل و سائنسی خطوط پر مربوط کرنا ہے تاکہ باہمی ریوینیو انڈیکس کو طویل مدتی استحکام فراہم کیا جا سکے۔
ایم او یو (MOU) پر عملدرآمد اور بزنس ٹو بزنس (B2B) کلاؤڈ میٹنگز کا روڈ میپ
سرکاری مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ہائی کمشنر عمران حیدر اور بی کے ایم ای اے کے صدر کے مابین ہونے والے مذاکرات میں پاکستان ہوزیری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PHMA) اور بنگلہ دیشی ہم منصب کے مابین پہلے سے طے شدہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے تحت سرگرمیوں کو لائیو کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے مینوفیکچرڈ پلان کے تحت درج ذیل تین بنیادی تزویراتی پیرامیٹرز وضع کیے گئے ہیں:
مشترکہ بی ٹو بی کوریڈورز: دونوں ممالک کی نجی ٹیکسٹائل کمپنیوں اور کارپوریٹ مینیجرز کے مابین پیپر لیس اور کیش لیس ماحول میں براہِ راست رابطے لائیو کرنے کے لیے ورچوئل ڈیش بورڈز بنائے جائیں گے۔
سپلائی چین سنکرونائزیشن : پاکستان سے کاٹن یارن اور خام مال کی ڈھاکہ کے گارمنٹ مینوفیکچرنگ یونٹس تک سوفٹ وئیر مانیٹرنگ کے تحت بلا تاخیر ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ نیٹ ورک ٹائم آؤٹ اور لاجسٹک اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
تجارتی وفود کے تبادلے: دفتری اور مینوئل لوپ ہولز کو ختم کر کے دونوں اطراف کے بڑے تاجروں اور کسٹمرز کو کسٹمز پورٹلز پر خصوصی وائٹ لسٹنگ کلیئرنس فراہم کی جائے گی۔
ڈھاکہ انٹرنیشنل ٹیکسٹائل نمائش 2027 اور پاکستانی کمپنیوں کو لائیو دعوت
ملاقات کے دوران ایک بڑا بریک تھرو اس وقت سامنے آیا جب بی کے ایم ای اے (BKMEA) کے صدر محمد حاتم نے باقاعدہ طور پر پاکستانی ٹیکسٹائل اور کٹ ویئر کمپنیوں کو جنوری 2027 میں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والی "بنگلہ دیش انٹرنیشنل ٹیکسٹائل، کٹنگ اینڈ گارمنٹ انڈسٹری ایگزبیشن” میں بھرپور شرکت کی آفیشل دعوت پیش کی۔ ان کا ماننا ہے کہ اس میگا انڈسٹریل ایگزبیشن میں پاکستانی کمپنیوں کے جوائنٹ وینچرز سے دونوں ممالک کے مالیاتی اشاریوں کو زبردست لکویڈیٹی حاصل ہوگی۔
پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر نے بی کے ایم ای اے کے صدر کو یقین دلایا کہ حکومتِ پاکستان خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور وزارتِ تجارت کے مروجہ کونسل رولز کے تحت دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی عدم توازن کو دور کرنے اور تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن پیپر لیس و کیش لیس کلاؤڈ سپورٹ فراہم کرے گی۔ یہ پائیدار سفارتی رخ بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر بلند کرے گا، جو طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح ہے






