صوبہ سندھ میں انسانی حقوق کے تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی و معاشی ترقی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ حکومتِ سندھ نے باقاعدہ طور پر صوبے کی تاریخ کی پہلی سندھ جینڈر پیرٹی رپورٹ لائیو کر دی ہے جسے صوبے میں صنفی مساوات کا ایک جامع اور تاریخی جائزہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو انسانی حقوق پر ان کے خصوصی معاون راجویر سنگھ سودھو نے پیش کی۔ رپورٹ میں زچگی کی صحت، خواتین کے روزگار اور سیاسی شراکت داری میں ہونے والی اہم پیشرفت کو سراہا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی خواتین کی خواندگی، اسکولوں میں داخلے، ڈیجیٹل رسائی اور عدالتی و پولیس مینیجرز کے رولز میں موجود بڑے خلا کی سائنسی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے عین مطابق اس رپورٹ کو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے لیے ایک کلیدی پالیسی ٹول تسلیم کیا ہے۔
سندھ کے آبادیاتی اشاریے اور صحت کے شعبے میں بڑی فائنینشل پیشرفت
ڈیجیٹل کلاؤڈ ڈیٹا بیس اور 2023 کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی مجموعی آبادی 55.69 ملین (5 کروڑ 56 لاکھ سے زائد) تک پہنچ چکی ہے جس کی سالانہ شرحِ نمو 2.57 فیصد مینوفیکچر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں صنفی تناسب ہر 100 خواتین کے مقابلے میں 108.76 مرد ہے۔
صحت کے شعبے میں فائنینشل فنڈز اور پبلک ہیلتھ الاٹمنٹ بڑھنے کی وجہ سے درج ذیل دو مثبت سائنسی نتائج حاصل ہوئے ہیں:
زچگی کی شرحِ اموات میں کمی: پبلک ہیلتھ نیٹ ورکس کی مانیٹرنگ کی بدولت زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی شرح 314 سے کم ہو کر 224 فی ایک لاکھ لائیو برتھس پر آ گئی ہے۔
نوائیدہ بچوں کی اموات کا انڈیکس: نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 24 اموات فی 1,000 لائیو برتھس ریکارڈ کی گئی ہے۔
تعلیم کا بڑا اسٹرکچرل بحران اور 4 ملین سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر
صحت کے شعبے میں کامیابیوں کے باوجود تعلیمی کوریڈور سندھ حکومت کے لیے اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ صوبے میں مردوں کی خواندگی کی شرح 68 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں خواتین کی خواندگی کا گراف صرف 47 فیصد پر رکا ہوا ہے۔
اس تعلیمی خلا کے ہولناک مینوئل اعداد و شمار درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
دیہی خواتین کی پسماندگی: سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین کی خواندگی کی شرح محض 27.52 فیصد ہے جو کہ ایک سنگین تعلیمی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
آؤٹ آف اسکول گرلز کا ہجوم: 5 سے 16 سال کی عمر کی 4.08 ملین (40 لاکھ سے زائد) معصوم بچیاں اب بھی اسکول جانے سے محروم ہیں اور نادرا کے کلاؤڈ سسٹم پر ان کا کوئی تعلیمی لاگ موجود نہیں ہے۔
انصاف کے شعبے میں خواتین کی کمزور نمائندگی اور صنفی تشدد کا آڈٹ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ کے سیکیورٹی اور لائیو جسٹس سیکٹر میں خواتین مینیجرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ سندھ پولیس فورس میں خواتین کی شرح صرف 4.34 فیصد ہے جبکہ استغاثہ میں ان کا حصہ 18.3 فیصد اور عدلیہ میں ججز کی شرح 13.7 فیصد مینوفیکچر کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں سال 2024 کے دوران صوبے میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,085 کیسز رپورٹ ہوئے جس پر رپورٹ میں سخت پروٹیکشن سسٹم اور کیش لیس و پیپر لیس قانونی مدد فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دوسری جانب سیاسی اور معاشی محاذ پر کسٹمرز (خواتین) کی شراکت داری بڑھی ہے۔ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن 12 ملین (1 کروڑ 20 لاکھ) سے تجاوز کر چکی ہے اور الیکشن لڑنے والی خواتین کی تعداد 2018 میں 23 سے بڑھ کر 2024 میں 53 ہو گئی ہے جبکہ برسرِ روزگار خواتین کی تعداد بھی 2.48 ملین سے بڑھ کر 3.32 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام صوبائی محکموں کو ٹارگٹڈ اصلاحات کا سخت روڈ میپ جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو شجاعت اور صنفی مساوات کی عالمی علامت قرار دے کر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔






