وفاقی حکومت نے وزارت خارجہ کے دستاویزات کی تصدیق اور ایپوسٹل سسٹم میں بڑے پیمانے پر ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور فنڈز کے غلط استعمال کے خلاف سخت ترین ایکشن لے لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے میڈیا پر آنے والی ان رپورٹس کا سخت نوٹس لیا ہے جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وزارت خارجہ کے بعض حکام نے پاکستانی شہریوں سے مبینہ طور پر اربوں روپے غیر قانونی طور پر اکٹھے کیے۔ اس سنگین معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اعلیٰ سطح کی وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تین رکنی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی کا قیام
حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی یہ انکوائری کمیٹی تین انتہائی تجربہ کار اور سینیئر سرکاری افسران پر مشتمل ہے۔ اس اہم کمیٹی کی سربراہی پٹرولیم سیکرٹری حامد یعقوب شیخ کریں گے جبکہ دیگر ارکان میں لا سیکرٹری راجہ نعیم اکبر اور سپیشل فنانس سیکرٹری قمر سرور عباسی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی مکمل طور پر خودمختار ہوگی اور اس کا مقصد دستاویزات کی تصدیق کے پورے عمل میں ہونے والی مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ کار اور کورئیر سروسز کا کردار
اس وزارت خارجہ سکینڈل انکوائری کا دائرہ کار کافی وسیع رکھا گیا ہے۔ کمیٹی بنیادی طور پر ایپوسٹل (جو کہ دستخطوں کی تصدیق کا جدید بین الاقوامی نظام ہے) اور روایتی دستاویزات کی تصدیق کے پورے میکانزم کی جانچ پڑتال کرے گی۔ تحقیقات میں اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ اس پورے عمل میں کہاں کہاں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا اور شہریوں کو کس طرح لوٹا گیا۔ اس کے علاوہ دستاویزات لانے اور لے جانے والی نجی کورئیر سروسز کے کردار کو بھی خصوصی طور پر چیک کیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا وہ بھی اس مبینہ سکینڈل کا حصہ تھیں۔ کمیٹی یہ بھی تعین کرے گی کہ وزارت خارجہ کے کون سے افسران یا اہلکار اس غیر قانونی نیٹ ورک کی پشت پناہی کر رہے تھے۔
دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنے کے لیے صرف دو ہفتوں (14 دن) کا وقت دیا ہے۔ کمیٹی نہ صرف بدعنوانی میں ملوث عناصر کی نشان دہی کرے گی بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے جامع اصلاحات بھی تجویز کرے گی۔
کمیٹی کے کام کو بلا تعطل اور تیزی سے مکمل کرنے کے لیے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کمیٹی کو تمام متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور دیگر مواد تک فوری اور مکمل رسائی فراہم کریں۔ حکومت کا عزم ہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹنے والے کسی بھی افسر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔






