پاکستان کی ڈیجیٹل گورننس، سائبر سیکیورٹی، چائلڈ پروٹیکشن اور انٹرنیٹ ریگولیٹری فریم ورک کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم قانون سازی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ملک کے کروڑوں معصوم بچوں کو آن لائن خطرات، سائبر ہراسمنٹ اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا عمر کی حد قانوناً مقرر کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
اس نئے اسمارٹ اور سخت ریگولیٹری قانون کے تحت، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اور یوٹیوب) پر باقاعدہ یا مینوئل اکاؤنٹ بنانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ وزارتِ آئی ٹی کے مینیجرز کے مطابق اس صدارتی آرڈیننس کا بنیادی ہدف بچوں کے ذہنی کسٹمز کی حفاظت کرنا، بلیک مارکیٹنگ و آن لائن فراڈ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا اور ملکی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کو جدید و سائنسی خطوط پر استوار کرنا ہے۔
نادرا بائیومیٹرک اسکیننگ اور فیشل ریکگنیشن سوفٹ وئیر کا نفاذ
حکومتِ پاکستان نے اس نئے قانون کے نفاذ کو محض کاغذی یا مینوئل مانیٹرنگ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے 100 فیصد پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ بنانے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے مرکزی کلاؤڈ سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے کا مینوفیکچرڈ پلان تیار کیا ہے۔
اس نئے اسمارٹ ریگولیٹری فریم ورک کے تین بنیادی سائنسی اور ڈیجیٹل پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
آٹو ایج ویریفیکیشن سوفٹ وئیر: جب بھی کوئی نیا کسٹمر (صارف) پاکستان کے اندر سوشل میڈیا اکاؤنٹ مینوفیکچر کرنے کی کوشش کرے گا تو سوشل میڈیا کمپنیوں کا الگورتھم نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ پورٹل سے لائیو رابطہ کرے گا۔
فیشل ریڈی ایشن اور کیمرہ ویٹنگ: اکاونٹ ہولڈر کی عمر کی تصدیق کے لیے جدید فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ بچے اپنے والدین کا شناختی کارڈ نمبر چوری کر کے سسٹم کو دھوکہ نہ دے سکیں۔
والدین کی ڈیجیٹل رضامندی : 13 سے 18 سال کے نوعمر بچوں کے اکاؤنٹس کے لیے فائنینشل اور ریگولیٹری قوانین کے تحت والدین کے موبائل نمبر پر ایک آٹو جنریٹڈ کیو آر کوڈ (QR Code) یا او ٹی پی (OTP) بھیجا جائے گا جس کی منظوری کے بعد ہی اکاؤنٹ لائیو ہو سکے گا۔
خلاف ورزی پر بھاری فنانشل جرمانے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے سخت ٹیرف رولز
پی ٹی اے کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ اس قانون کی پاسداری نہ کرنے والی گلوبل ٹیک کمپنیوں (جیسے میٹا اور بائٹ ڈانس) کے خلاف سخت ترین فنانشل اور ریگولیٹری ایکشن لیا جائے گا۔ اگر کسی کمپنی نے سائنسی آڈٹ اور کڑی مانیٹرنگ کے بغیر 13 سال سے کم عمر بچے کا اکاؤنٹ بلاک نہ کیا تو اس پر کروڑوں روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا اور مسلسل غفلت کی صورت میں اس مخصوص پورٹل یا ایپ کی سروسز کو پاکستان کے اندر عارضی طور پر معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں بچوں کے مینوئل تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت ایک جامع چائلڈ آن لائن پروٹیکشن ایکٹ بھی پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے جس کے تحت بچوں کا حساس ڈیٹا یا سرچ لاگز چوری کرنے والی کمپنیوں کے فنانشل ٹیرف رولز کو سخت کر دیا جائے گا۔ اس قانون کا نفاذ پاکستان کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی دنیا کے سامنے ایک ذمہ دار اور اسمارٹ ڈیجیٹل ریاست کے طور پر مستقل طور پر فروغ دے گا۔
کسٹمرز کے لیے ڈیجیٹل شکایت پورٹل اور لائیو ہیلپ ڈیسک سپورٹ
وزارتِ داخلہ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے تمام والدین، اساتذہ اور نجی مینیجرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اسمارٹ ڈیوائسز پر خود بھی کڑی نگرانی رکھیں۔ اگر کسی شہری کو انٹرنیٹ پر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی یا کسی مشکوک اکاؤنٹ کا پتہ چلے تو وہ فوری طور پر پی ٹی اے کے آفیشل پورٹل پر لاگ ان کر کے لائیو رپورٹ درج کرا سکتا ہے یا ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم کی یونیورسل ہیلپ لائن 1991 پر کال کر کے اپنے ڈیٹا لاگز کا تکنیکی آڈٹ کروا سکتا ہے۔ یہ نیا کلاؤڈ سسٹم بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے پاکستان کے انٹرنیٹ کوریڈور کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔






