پاکستان کی میکرو اکانومی، بین الاقوامی تجارت، کارپوریٹ سیکٹر اور جیو پولیٹیکل تعلقات کے لیے یورپی مارکیٹ سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے یورپی یونین (EU) کے تعاون اور کڑی مانیٹرنگ کے تحت جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (GSP+) کے پانچویں باقاعدہ جائزے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یورپی یونین کے اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد ملکی برآمدات، لیبر رولز اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ہونے والی قانونی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اس سفارتی اور تجارتی کامیابی کے بعد اب جی ایس پی پلس ریویو پاکستان کا تزویراتی مرحلہ ایک مثبت ڈائریکشن میں داخل ہو چکا ہے۔ وزارتِ تجارت کے مینیجرز کے مطابق اس جائزے کی کامیاب تکمیل سے پاکستان کے ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور سرجیکل آلات کے شعبوں کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری اور کیش لیس کوریڈور کے ذریعے رسائی برقرار رہے گی جو ملکی ریوینیو اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گی۔
27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد اور دستاویزی قوانین کا
یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ریگولیٹری مینوئل کے تحت جی ایس پی پلس کی رعایت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان پر لازم ہے کہ وہ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، تحفظِ ماحول اور گڈ گورننس سے متعلق 27 اہم بین الاقوامی کنونشنز پر سختی سے عملدرآمد کرے۔
یورپی وفد کی طرف سے مینوفیکچر کیے گئے اس آڈٹ فریم ورک کے بنیادی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
انسانی اور لیبر حقوق کا تحفظ: پاکستان نے چائلڈ لیبر کے خاتمے، خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ ماحول فراہم کرنے اور فیکٹریوں میں مزدوروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئے سوفٹ وئیر بیسڈ ریکارڈز مینوفیکچر کیے ہیں۔
اینٹی کرپشن اور گورننس انڈیکس: وفاقی حکومت نے سرکاری ٹھیکوں اور فنانشل ٹرانزکشنز کو پیپر لیس اور شفاف بنانے کے لیے نادرا (NADRA) اور ایف بی آر (FBR) کے پورٹلز کو لائیو اسکیننگ کے ساتھ اپ گریڈ کیا ہے جس کی یورپی مینیجرز نے توثیق کی ہے۔
ماحولیاتی رولز کا نفاذ: ٹیکسٹائل اور لیدر انڈسٹریز میں زہریلے پانی کو صاف کرنے کے لیے ہائی ٹیک ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اسمارٹ اقدامات کا سائنسی جائزہ لیا گیا ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کو معاشی ریلیف اور برآمدی گراف کا فنانشل جائزہ
فنانشل مینیجرز اور تجارتی اشاریوں کے مطابق جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان کی یورپی یونین کو ہونے والی کل برآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ اسی اسکیم کے مرہونِ منت ہے۔ اگر اس پانچویں جائزے میں کوئی تکنیکی لوپ ہول سامنے آتا تو پاکستان کو اربوں ڈالرز کے مالیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا جو معاشی اشاریوں کو گرا دیتا۔
اب اس کامیاب مینوئل کوریڈور کے بعد لاہور، فیصل آباد اور کراچی کے ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو یہ کلاؤڈ سپورٹ حاصل رہے گی کہ وہ یورپی کسٹمرز کو سستے داموں معیاری مصنوعات پے کر سکیں۔ حکومتِ پاکستان نے نجی مینیجرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ یورپی معیار کے مطابق اپنی برآمداتی اشیاء کا کوالٹی آڈٹ چوبیس گھنٹے فعال رکھیں تاکہ مستقبل کے برانڈ امیج کو مستقل طور پر محفوظ رکھا جا سکے۔
مستقبل کا اسمارٹ روڈ میپ اور مانیٹرنگ کے لیے لائیو ہیلپ ڈیسک
وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ یہ پانچواں جائزہ مجموعی طور پر کامیاب رہا ہے تاہم یورپی یونین کی کونسل آئندہ مہینوں میں اپنی فائنل ڈائیگنوسٹک رپورٹ آفیشل پورٹل پر لائیو شیئر کرے گی۔ حکومت نے انشورنس، ٹیکس اور بینکنگ چینلز کو مکمل طور پر کیش لیس موڈ میں منتقل کر دیا ہے تاکہ تجارتی ڈیٹا میں کسی بھی قسم کے مینوئل ردوبدل کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔
صارفین اور نجی مینیجرز کی فوری تکنیکی معاونت کے لیے وزارت نے ایک مخصوص ڈیجیٹل ہیلپ ڈیسک اور یونیورسل ہیلپ لائن کو متحرک کر رکھا ہے جہاں سے تجارتی ضوابط، کسٹمز ٹیرف رولز اور برآمدی سرٹیفکیٹس کی تصدیق کا آڈٹ منٹوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تاریخی بریک تھرو پاکستان کے سافٹ امیج کو عالمی منڈیوں میں مستقل فروغ دے گا۔






