پاکستان کی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی سفارت کاری اور جیو پولیٹیکل منظرنامے پر عالمی تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ملکی سلامتی، تجارتی حجم اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے پختہ موقف کا اعادہ کیا ہے۔
آج، 18 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں واقع وزارتِ خارجہ کے دفتر میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمشنر جینی میریٹ نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس اہم سیشن کا بنیادی محور پاک برطانیہ سفارتی تعلقات کے پورے فریم ورک کا جائزہ لینا، کثیر الجہتی کوریڈورز کو مستحکم کرنا اور پچھلے مہینے لندن میں طے پانے والے سائنسی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔
British High Commissioner to Pakistan @JaneMarriottUK called on Deputy Prime Minister and Foreign Minister @MIshaqDar50 in Islamabad today.
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 18, 2026
The two sides discussed regional and international developments, as well as matters of mutual interest@ForeignOfficePk #News… pic.twitter.com/Ll2UVb7L2z
اگست 2026 کے دورۂ برطانیہ کے معاشی اور تجارتی معاہدوں کا فالو اپ
اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر جینی میریٹ کے مابین ہونے والے مذاکرات کے دوران، نائب وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ برطانیہ (اگست 2026) کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی یادداشتوں پر ہونے والی پیشرفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
سفارتی مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس تزویراتی ملاقات میں درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز کو حتمی شکل دی گئی:
تجارتی حجم میں اضافہ : پاکستان کی آئی ٹی برآمدات، ٹیکسٹائل مصنوعات اور سروسز سیکٹر کو برطانوی مارکیٹ تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کا نیا سوفٹ وئیر بیسڈ فریم ورک مینوفیکچر کیا جا رہا ہے۔
افرادی قوت اور ویزا کسٹمز: پاکستانی ہنرمندوں اور مینیجرز کے لیے برطانیہ کے امیگریشن قوانین کو آن لائن اور آسان بنانے کے لیے نادرا کے پورٹل کے ساتھ ایک مشترکہ کلاؤڈ نیٹ ورک فعال کرنے پر بات چیت کی گئی۔
اعلیٰ سطحی سفارتی روابط : اسحاق ڈار نے دوطرفہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو طویل مدتی استحکام دینے کے لیے لندن اور اسلام آباد کے مابین مستقل اور بلا تاخیر سیاسی و معاشی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال کا آڈٹ
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کے بدلتے ہوئے ملٹری مائنڈ سیٹ اور لائیو خطرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ وزرائے کونسل کے مروجہ کونسل رولز کے تحت پاکستان اور برطانیہ نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور افغانستان کے سرحدی کوریڈورز میں امن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری انتہائی ناگزیر ہے۔
جینی میریٹ نے بحر ہند کے تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں پاکستان کی عسکری و بحری صلاحیتوں (جیسے پاک بحریہ کے جے ایم آئی سی سی پورٹل) کے اقدامات کو زبردست سراہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ برطانیہ پاکستان کے کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے اور آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے ساختی معاشی اصلاحات کے نفاذ میں اپنی لائیو سپورٹ جاری رکھے گا، جو بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے پاکستان کے سافٹ امیج کو عالمی سطح پر مستقل فروغ دے گا۔






