پاکستان میں اسمارٹ فونز استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین، کاروباری اداروں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ایک انتہائی بڑی اور تاریخی معاشی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے مہنگے اسمارٹ فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں کے یکمشت مینوئل بوجھ کو ختم کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر امپورٹڈ موبائل فونز سیلز ٹیکس اقساط میں جمع کرانے کی اصولی اور قانونی منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ایف بی آر نے سرکولر نمبر 1 آف 2026 جاری کر دیا ہے جس کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں ایک نئی ذیلی شق کا اضافہ کر کے اس فنانشل اسکیم کو لاگو کیا گیا ہے۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد صارفین پر سے یکمشت ادائیگی کا دباؤ کم کرنا اور ملک میں ڈیجیٹل منتقلی کو تیز کرنا ہے تاکہ ہر شہری کی پہنچ میں جدید اسمارٹ فونز آ سکیں۔
پی ٹی اے کے ڈربز (DIRBS) سسٹم کے ساتھ ڈیجیٹل انضمام
ایف بی آر کے آفیشل مینوئل اور ریگولیٹری گائیڈ لائنز کے مطابق یہ نیا اقساط کا نظام پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مروجہ ڈربز (DIRBS) سسٹم کے ساتھ مکمل طور پر لنکڈ اور سوفٹ ویئر بیسڈ کر دیا گیا ہے۔ جب کوئی کسٹمر بیرونِ ملک سے لایا گیا فون رجسٹر کرنے کے لیے پورٹل پر لاگ ان کرے گا، تو اسے لائیو اسکیننگ کے بعد یکمشت رقم کے بجائے آسان اقساط کا آپشن نظر آئے گا۔
اس اسمارٹ فائنینشل فریم ورک کی اہم ترین شرائط درج ذیل ہیں:
مجموعی ٹیکس میں کوئی کمی نہیں: یہ سہولت صرف ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے مینوفیکچر کی گئی ہے اس سے کل ٹیکس لائبیلٹی میں کوئی مالیاتی کٹوتی یا ڈسکاؤنٹ نہیں ملے گا۔
مالیاتی سال کی ڈیڈ لائن: قانون کے مطابق کسٹمر کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے امپورٹڈ فون کی تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اختتام سے پہلے لازمی کلیئر کرے جس سال میں فون پاکستان لایا گیا ہے۔ اگر اقساط وقت پر پے نہ کی گئیں تو ڈربز سسٹم فون کے آئی ایم ای آئی نمبر کو آٹو بلاک کر دے گا۔
قومی اسمبلی کی آئی ٹی کمیٹی میں احتجاج اور سیاسی بریک تھرو
اس تاریخی فیصلے کے پیچھے ایک بڑا سیاسی اور انتظامی پس منظر بھی شامل ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے حالیہ اجلاسوں کے دوران رکنِ اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے پی ٹی اے اور ایف بی آر کے سخت مینوئل ٹیکس کسٹمز کے خلاف زبردست احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب دنیا بھر میں کسٹمرز کو مہنگے فونز اقساط پر مل سکتے ہیں، تو پاکستان کے غریب عوام اور نوجوانوں پر یہ معاشی دباؤ کیوں مسلط ہے؟ اس عوامی اور پارلیمانی دباؤ کے بعد فنانس کمیٹی نے مینوئل لوپ ہولز کو دور کرنے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں ایف بی آر نے یہ کیش لیس ریلیف فائنل کیا۔
ہائی اینڈ اسمارٹ فونز کے خریداروں کے لیے بڑا ریلیف
موجودہ ٹیکس رولز کے مطابق 500 امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے ہائی اینڈ اسمارٹ فونز (جیسے ایپل آئی فون 16، سیمسنگ گلیکسی ایس سیریز اور گوگل پکسل) پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے جبکہ اس سے کم مالیت کے فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ان بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ایک عام کسٹمر کے لیے فون بلاک ہونے سے بچانا ناممکن ہو رہا تھا۔
اب اس نئے سوفٹ ویئر نیٹ ورک کے فعال ہونے سے صارفین اپنے بجٹ کے مطابق رقم کو تقسیم کر سکیں گے۔ پی ٹی اے اب کمرشل بینکوں اور ڈیجیٹل والٹس کے ساتھ مل کر اس کا فائنل پیمنٹ کوریڈور اور کیو آر کوڈ سسٹم مینوفیکچر کر رہا ہے تاکہ شہری گھر بیٹھے ایزی پیسہ، جیز کیش یا کریڈٹ کارڈز کے ذریعے اپنی ماہانہ قسط پے کر سکیں۔






