پنجاب بھر کے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے ایک اور تاریخی اقدام سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مائینڈ سیٹ اور انقلابی گرین وژن کے تحت باقاعدہ طور پر سی ایم پنجاب ای بائیک اسکیم کے تحت درخواست گزاروں کے لیے شاندار اور نئی ریگولری سہولیات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے طلبہ پر سے مالیاتی دباؤ کو یکسر ختم کرنے کے لیے ڈاؤن پیمنٹ کی شرط کو مکمل طور پر ویو یعنی ختم کر دیا ہے۔ اب پنجاب کے تمام 36 اضلاع کے طلبہ کسی بھی یکمشت ادائیگی کے مینوئل بوجھ کے بغیر صرف آسان ماہانہ اقساط پر اپنی الیکٹرک یا پٹرول بائیک حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے سخت مینوفیکچرنگ اور لاجسٹک ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام اہل طلبہ کو منظوری کے محض 6 ہفتوں کے اندر بائیکس کی ڈیلیوری یقینی بنائی جائے۔
زیرو ڈاؤن پیمنٹ اور بلا سود اقساط کا نیا مالیاتی فریم ورک
وزارتِ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ اور بینک آف پنجاب کے مینیجرز کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ فائنینشل فریم ورک کے مطابق، طلبہ کو سودی نظام سے پاک کلاؤڈ مینوئل فراہم کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ ماہانہ قسط کے علاوہ طلبہ سے کسی بھی قسم کے اضافی چارجز یا مینوئل کسٹمز کٹس وصول نہیں کی جائیں گی۔
اسکیم کے اپگریڈڈ لاجسٹک اور فائنینشل پیرامیٹرز درج ذیل ہیں:
باہمی اقساط کا حجم: الیکٹرک بائیک کے لیے ماہانہ قسط کا حجم تقریباً 3,000 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
سود اور انشورنس کی ادائیگی: قرضے پر آنے والا تمام مارک اپ (سود) اور تاحیات انشورنس کے اخراجات پنجاب حکومت خود ادا کرے گی جس کے لیے فیز 2 میں اربوں روپے کی سبسیڈی لاک کی گئی ہے۔
لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LiFePO4) بیٹری: تمام الیکٹرک اسکوٹرز کے اندر روایتی بیٹریوں کے بجائے طویل العمر اور بلاسٹ پروف لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریاں نصب کی گئی ہیں۔
مفت حفاظتی کٹس، رائڈنگ ٹریننگ اور 36 اضلاع کا کوٹہ
ماضی کے فیزز کے برعکس، جہاں طلبہ کو صرف گاڑی فراہم کی جاتی تھی اس بار نوتشکیل شدہ پالیسی کے تحت ہر منظور شدہ کسٹمر (طالب علم) کو ایک عدد فل فیس ہیلمٹ اور ریئر سیفٹی راڈ بالکل مفت دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر حادثات کے بلیک اسپاٹس کا سراغ لگانے اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکریٹری عمران سکندر بلوچ کی نگرانی میں دو روزہ لازمی رائڈنگ سیفٹی ٹریننگ بھی مفت فراہم کی جائے گی۔ یہ اسکیم لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ پنجاب کے تمام 36 اضلاع کے دیہی اور شہری تعلیمی نیٹ ورکس پر برابر نافذ العمل ہے۔
آن لائن اپلائی کا طریقہ کار اور گارنٹر کی شرط
درخواستوں کی وصولی کو پیپر لیس اور سوفٹ وئیر بیسڈ بنانے کے لیے نادرا کے بائیومیٹرک پورٹل سے مربوط آفیشل ویب ٹرمینل bikes.punjab.gov.pk فعال کر دیا گیا ہے۔ امیدوار چوبیس گھنٹے کسی بھی وقت لاگ ان کر کے فارم فل کر سکتے ہیں۔
آن لائن رجسٹریشن کے دوران درج ذیل سائنسی مراحل کا خیال رکھنا لازمی ہے:
لرنر پرمٹ یا لائسنس: طالب علم کا ایچ ای سی (HEC) سے منظور شدہ ادارے کا باقاعدہ اسٹوڈنٹ ہونا اور اس کے پاس موٹر سائیکل کا درست لرنر پرمٹ یا ڈرائیونگ لائسنس ہونا فرض ہے۔
گارنٹر کا موبائل نمبر: فارم پر والدین یا سرپرست کا شناختی کارڈ اور ان کا وہی موبائل نمبر درج کریں جو ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو۔
آخری تاریخ کی پابندی: درخواستیں جمع کرانے کی حتمی ڈیڈ لائن 4 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔ چونکہ حکومت پہلے آؤ، پہلے پاؤ کے اصول پر مینوفیکچرنگ ڈیٹا کلیئر کرے گی اس لیے طلبہ کو مینوئل تاخیر سے بچنے کے لیے فوری اپلائی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔






