امریکی امیگریشن، بین الاقوامی سفارت کاری اور دنیا بھر کے لاکھوں ویزا امیدواروں کے لیے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک وفاقی عدالت کے تاریخی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر ڈائیورسٹی ویزا پروگرام کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر 2025 میں سیکیورٹی اسکریننگ اور کوائف کی جانچ پڑتال کے نام پر اس پروگرام پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی، جس سے ہزاروں لاٹری جیتنے والے امیدوار شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔
آج، 9 ستمبر 2026 کو موصول ہونے والی عدالتی رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کی شمالی ضلعی عدالت کے جج ایڈورڈ جے ڈاویلا نے کیس ‘Medani et al. v. Trump et al.’ میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ویزا منجمد کرنے کی من مانی پالیسی کو فوری طور پر ختم کرے اور عام قانونی مینوئل کے تحت ویزوں کی فوری پروسیسنگ اور اجرا کو بحال کرے۔
30 ستمبر کی حتمی ڈیڈ لائن اور سفارتی مینیجرز کے لیے ہنگامی چیلنج
عدالتی حکم کے بعد امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم، ‘DV-2026‘ کے لاٹری کسٹمرز (امیدواروں) کے لیے اب وقت کا مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے کیونکہ امریکی وفاقی مالیاتی سال کے قانون کے مطابق، تمام ڈائیورسٹی ویزے 30 ستمبر 2026 کی آدھی رات سے پہلے جاری ہونا لازمی ہیں۔
اس اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت درج ذیل ہنگامی پیرامیٹرز نافذ کیے گئے ہیں:
غیر استعمال شدہ ویزوں کا ضائع ہونا: اگر 30 ستمبر کی آخری تاریخ تک کسی منتخب امیدوار کو ویزا نمبر الاٹ نہ ہو سکا، تو اس کا کوٹہ تاحیات ضائع ہو جائے گا اور عدالتی حکم بھی اس کی مدد نہیں کر سکے گا۔
انٹرویوز کا شیڈول: ایسے عازمین جن کے انٹرویوز پہلے سے طے شدہ تھے، ان کے اپائنٹمنٹس برقرار رہیں گے اور وہ نادرا کے بائیومیٹرک اسکیننگ کوریڈورز کی طرح اپنی تمام دستاویزی کلیئرنس لے کر سفارت خانے جا سکتے ہیں۔
اسٹیٹس ایڈجسٹمنٹ : امریکہ کے اندر موجود ایسے کسٹمرز جو اپنے ویزا اسٹیٹس کو تبدیل کرانے کے لیے یو ایس سی آئی ایس (USCIS) میں درخواستیں دیے بیٹھے تھے، ان کے ہولڈ مینوئل کو بھی عارضی طور پر ہٹا کر عام طریقے سے پروسیسنگ شروع کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی اسکیننگ اور پبلک چارج رولز کا سخت آڈٹ
اگرچہ وفاقی عدالت نے ویزا جاری کرنے پر عائد پابندی کو ہٹا دیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سیکیورٹی رولز کو نرم کر دیا گیا ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ تمام امیدواروں کو انتہائی سخت اور سوفٹ وئیر بیسڈ سیکیورٹی اسکیننگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
امریکی امیگریشن کونسل کے مینیجرز کے مطابق امیدواروں کو درج ذیل دو بڑے امتحانی مراحل کو لازمی کلیئر کرنا ہوگا:
قومی سلامتی کا آڈٹ: درخواست گزار کا کرمنل اور بائیومیٹرک ڈیٹا چیک کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ امریکی پبلک سیفٹی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
پبلک چارج کی توثیق: ٹرمپ انتظامیہ کے مینیجرز نے واضح کیا ہے کہ یہ جانچنا لازمی ہوگا کہ ویزا حاصل کرنے والا فرد امریکہ پہنچ کر حکومت کے مالیاتی فنڈز یا ویلفیئر پر بوجھ تو نہیں بنے گا، اور اس کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے معقول فنانشل بیکنگ موجود ہے یا نہیں۔
سالانہ کوٹہ میں کٹوتی اور ڈائیورسٹی ویزا کا مستقبل
امریکی کانگریس کے منظور کردہ قوانین کے تحت سالانہ 55,000 گرین کارڈ ویزے اس پروگرام کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ لیکن سال 2026 کے کسٹمز رولز کے مطابق ‘NACARA’ اور نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ (NDAA) کی کٹوتیوں کے بعد اس بار یہ کوٹہ کم کر کے تقریباً 51,850 ویزوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مسابقت کا انڈیکس مزید بڑھ گیا ہے۔
پاکستان، نیپال، اور افغانستان جیسے ممالک کے ہزاروں عازمین جو اس لاٹری کے ذریعے ‘امیریکن ڈریم’ پورا کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے ان کے پاس اب اپنے دستاویزات جمع کرانے اور قونصلر مینیجرز سے حتمی مہر لگوانے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔ ماہرینِ قانون نے تمام منتخب امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی مینوئل تاخیر کے بغیر اپنے ویزا اسٹیٹس پورٹل کو چوبیس گھنٹے مانیٹر کرتے






