پاکستان کے مالیاتی نظام، اسٹاک مارکیٹ اور کیپٹل مارکیٹ انڈسٹری کو مکمل طور پر پیپر لیس اور سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک انقلابی ریگولیٹری تبدیلی سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے باقاعدہ طور پر ایک نیا اور متفقہ ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک متعارف کرایا ہے۔ جس کے تحت اب ملک بھر میں انویسٹر اکاؤنٹ کی ڈیجیٹل آن بورڈنگ چوبیس گھنٹے (24/7) بغیر کسی مینوئل یا انسانی مداخلت کے خودکار طریقے سے انجام دی جا سکے گی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق سرکولر نمبر 19 آف 2026 کے تحت جاری ہونے والے اس نئے اسٹرکچرل فریم ورک کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں داخلے کی روایتی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے سرمایہ کاری کے سفر کو تیز ترین بنانا ہے۔ یہ نئی ڈیجیٹل سروس سیکیورٹیز بروکراں، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (AMCs) اور انشورنس اداروں کے مینوئل کسٹمز کو ختم کر کے انویسٹرز کو ایک یکساں اور محفوظ سوفٹ وئیر کوریڈور فراہم کرے گی۔
اے پی آئی (API) بیسڈ پروسیسنگ اور ون ڈے اکاؤنٹ اوپننگ کا مینوئل
ایس ای سی پی کے اس نئے ریگولیٹری مینوئل کے تحت پاکستان کیپٹل مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے، بشمول سینٹرلائزڈ نو یور کسٹمر آرگنائزیشن (CKO)، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (CDC)، اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (NCCPL) کو مجاز مالیاتی اداروں کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر لنک کر دیا گیا ہے۔
اس نئے سوفٹ وئیر سسٹم کی نمایاں تکنیکی خصوصیات درج ذیل ہیں:
فوری شناخت اور UIN کا اجراء: جدید اے پی آئی (API) نیٹ ورک کے ذریعے کسٹمرز کا ڈیٹا اسکین کر کے فوری طور پر یونیک آئڈنٹی فیکیشن نمبر (UIN) جاری کیا جائے گا
سی ڈی سی سب اکاؤنٹس کا خودکار نفاذ: جیسے ہی کسٹمر کلاؤڈ پورٹل پر لاگ ان کرے گا کلاؤڈ سسٹم کے ذریعے اس کا سی ڈی سی (CDC) سب اکاؤنٹ اور ٹریڈنگ اکاؤنٹ خودکار طریقے سے انٹیگریٹ ہو جائے گا۔
سہولت اکاؤنٹس کے لیے 24 گھنٹے کا ہدف: نوٹیفکیشن کے مطابق سہولت اکاؤنٹس کو صرف ایک ورکنگ ڈے کے اندر پروسیس کرنا لازمی ہو گا جبکہ نارمل اکاؤنٹس کے لیے زیادہ سے زیادہ دو دن کی حد مقرر کی گئی ہے۔
SECP Removes Barriers to Opening Stock Market Accounts
— SEC Pakistan (@SECPakistan) August 28, 2026
The SECP has introduced a unified digital investor onboarding framework to make entry into Pakistan’s capital market faster and easier by reducing repetitive verification, simplifying documentation and setting clear… pic.twitter.com/MYrkkWt9Cd
بار بار کی وریفیکیشن کا خاتمہ اور نوجوان انویسٹرز کا ہدف
اس نئے پورٹل فریم ورک کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ کامیابی یہ ہے کہ اس نے انویسٹرز کے لیے بار بار کی جانے والی کسٹمر وریفیکیشن کی مینوئل تاخیر کو یکسر ختم کر دیا ہے۔ اگر کسی کسٹمر کی بائیومیٹرک اسکیننگ یا نادرا وریفیکیشن پہلے ہی کسی بینک، اسٹیٹ بینک کے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) یا ریگولیٹڈ ادارے کے ذریعے مکمل ہو چکی ہے۔ تو دوسرے بروکریج ہاؤسز اسی ڈیٹا بیس پر بھروسہ کرنے کے مجاز ہوں گے اور کسٹمر سے دوبارہ دستاویزات کا مینوئل تقاضا نہیں کیا جائے گا۔
ایس ای سی پی کا بنیادی معاشی ہدف ملکی انویسٹر بیس کو بڑھا کر 25 لاکھ (2.5 ملین) انویسٹرز تک پہنچانا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ فوکس پاکستان کی نوجوان افرادی قوت پر ہے نوجوان اب موبائل ایپس اور ڈیجیٹل چینلز کی مدد سے رات کے کسی بھی وقت اپنی تجارتی پروفائل بنا سکتے ہیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر درخواست گزار کو ایک ڈیجیٹل ٹریکنگ آئی ڈی (Tracking ID) جاری کی جائے گی اور اگر کسی وجہ سے درخواست مسترد کی گئی تو کسٹمز قوانین کے مطابق اس کی مخصوص وجہ تحریری طور پر فراہم کی جائے گی۔
انٹرمیڈیئرز کے لیے تین ماہ کی مہلت اور عملدرآمد کا روڈ میپ
مرکزی ریگولیٹر نے تمام سیکیورٹیز اور فیوچرز بروکرز، لائف انشورنس کمپنیوں اور انویسٹمنٹ ایڈوائزرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آن لائن پورٹلز، مینوفیکچرنگ سافٹ ویئرز اور فارمز کو اگلے تین ماہ کے اندر اپ ڈیٹ کر کے اس سینٹرلائزڈ گیٹ وے پورٹل (CGP) کے ساتھ باقاعدہ کنیکٹ کریں یہ ڈیجیٹل شفٹ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ریٹیل انویسٹمنٹ کو تیز کرے گا اور مارکیٹ کو عالمی معاشی کلاؤڈ کے برابر لا کھڑا کرے






