پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی طاقت بنانے اور ملکی معیشت کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے ایک اور تاریخی اور شاندار کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان اور دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ادارے گوگل نے ملک بھر میں ڈیجیٹل اکانومی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون کی ایک جامع مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔
آج 21 اگست 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران سیکریٹری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان اور گوگل کے سینئر ڈائریکٹر برائے گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی (جنوب مشرقی ایشیا) ڈیوڈ ویلر نے اس تزویراتی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ پیشرفت پاکستان میں گوگل کا باقاعدہ لوکل آفس قائم ہونے کے فوری بعد سامنے آئی ہے جو ملکی ٹیک سیکٹر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی ناظم الامور کی تقریب میں شرکت
اس تاریخی تقریب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خود اس پورے عمل کی نگرانی کی اور وہ تقریب کے فرنٹ لائن گواہ بنے۔ ان کے ہمراہ پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور (US Chargé d’Affaires) نٹالی بیکر اور وفاقی کابینہ کے اہم ترین ارکان بھی تقریب میں موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور گوگل کا معاہدہ ملکی نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر روزگار اور ہنر حاصل کرنے کا ایک سنہری دروازہ ثابت ہو گا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت مینوئل دفتری کلچر کا خاتمہ کر کے پورے ملک کو ‘ای آفس’ (e-Office) اور پیپر لیس گورننس پر منتقل کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے گوگل کی تکنیکی مہارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا انفراسٹرکچر ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور ہارڈ ویئر مینوفیکچرنگ پر خصوصی توجہ
اس دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت گوگل پاکستان کے اندر محض سروسز تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ملکی مینوفیکچرنگ اور سائنسی ریسرچ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے عملی سرمایہ کاری کرے گا۔ معاہدے کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا فروغ: پاکستانی جامعات اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تعاون سے نوجوانوں کو جدید اے آئی الگورتھمز، مشین لرننگ، اور ڈیٹا سائنس کی اعلیٰ تعلیم فراہم کی جائے گی۔
ڈیجیٹل سکلز اور سرٹیفیکیشنز: نافٹیک کے اسکلز روڈ میپ کے تحت لاکھوں طلبہ کو گوگل کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشنز مفت یا رعایتی قیمتوں پر دلائی جائیں گی تاکہ ملکی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچایا جا سکے۔
گوگل جیمنائ پیکیج: جیسے کہ گزشتہ روز اعلان کیا گیا تھا پاکستانی طلبہ کو ایک سال کے لیے گوگل کا پریمیم اے آئی ٹول جیمنائ بالکل مفت فراہم کرنے کے انتظامی فریم ورک کو بھی اس معاہدے کے ذریعے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
The Government of #Pakistan and @Google have signed a MoU to promote cooperation towards digital economy and Artificial Intelligence in Pakistan@PakPMO @ForeignOfficePk @MoitOfficial #RadioPakistan #News #AI #DigitalEconomyhttps://t.co/ITUrvz9BX7 pic.twitter.com/JogLt3v1Xs
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 21, 2026
پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل اور ٹیک انڈسٹری پر دور رس اثرات
گوگل کے سینئر ڈائریکٹر ڈیوڈ ویلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گوگل کے مقامی دفتر کا قیام اور اس ایم او یو پر دستخط کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ گوگل پاکستان کے روشن مستقبل پر پورا بھروسہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوگل کے ڈیجیٹل ٹولز پہلے ہی پاکستان میں سالانہ کھربوں روپے کی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے رہے ہیں اور اس نئے معاہدے کے بعد مقامی اسٹارٹ اپس اور مینوفیکچررز کو براہِ راست عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی۔
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے بھی اس سائنسی تعاون کو پاک امریکہ تجارتی اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ اب تمام تاجر، مینیجرز اور طلبہ 20 اور 21 اگست سے شروع ہونے والے اس نئے ریگولیٹری دور کے تحت ڈیجیٹل پاکستان پورٹل سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔






