پاکستان کے خوبصورت ترین اور حیاتیاتی تنوع سے مالامال علاقے چترال میں ماحول دوست اور جنگلی حیات کے تحفظ کی تاریخ کا ایک نیا اور انقلابی باب رقم ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا کے محکمۂ جنگلی حیات نے پہلی بار چترال گول نیشنل پارک کے ارد گرد کے دیہاتی علاقوں میں مکمل طور پر خواتین کی قیادت میں چلنے والی تحفظاتی تنظیمیں قائم کر دی ہیں۔
اس اہم اور دور رس مہم کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحولیاتی بیداری میں خواتین کے کردار کو باقاعدہ بنانا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔ چترال کے پسماندہ اضلاع میں روایتی طور پر مرد ہی تحفظاتی انجمنوں کی سربراہی کرتے آئے ہیں لیکن اس تاریخی اقدام سے اب خواتین بھی ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال میں فرنٹ لائن پر آ گئی ہیں۔
چترال گول نیشنل پارک کی جغرافیائی اور ماحولیاتی اہمیت
چترال گول نیشنل پارک پاکستان کے چند اہم ترین نیشنل پارکس میں سے ایک ہے جو کہ نایاب جنگلی حیات خصوصاً قومی جانور مارخور ، برفانی چیتے ، لداخ اریال اور نایاب پرندوں کا قدرتی مسکن ہے۔
پارک کے اطراف میں واقع دیہات میں رہنے والے مقامی لوگ ایندھن کی لکڑی، مویشیوں کی چرائی اور جڑی بوٹیوں کے حصول کے لیے براہِ راست اس جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں، مقامی برادریوں کے تعاون کے بغیر پارک کا تحفظ ناممکن تھا۔ محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق چونکہ خواتین روزمرہ کے گھریلو کاموں کی وجہ سے قدرتی وسائل اور لکڑی کے استعمال سے زیادہ منسلک ہوتی ہیں، اس لیے ان کی شمولیت کے بغیر ماحولیاتی مقاصد حاصل کرنا ناممکن تھا۔
چترال گول نیشنل پارک میں خواتین کی تنظیمیں: دائرہ کار اور اہداف
محکمۂ جنگلی حیات کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی طور پر پارک کی حدود سے متصل اہم دیہاتوں جیسے کہ چترال گول، رومبور اور بمبوریت کے قریبی علاقوں میں یہ تنظیمیں بنائی گئی ہیں۔ ان خواتین کی تنظیموں کے بنیادی اہداف اور دائرہ کار درج ذیل امور پر مشتمل ہیں:
غیر قانونی کٹائی کی روک تھام: خواتین اپنے دیہات کی سطح پر لکڑیوں کی کٹائی کو ریگولیٹ کرنے اور جنگلات کی حفاظت میں مدد کریں گی۔
وائلڈ لائف پوچنگ (شکار) کا سدِباب: مقامی خواتین کو یہ تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار یا جنگل میں کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع کسٹمز اور وائلڈ لائف حکام کو دیں۔
ماحولیاتی بیداری : یہ تنظیمیں دیہات کی سطح پر اسکول جانے والی بچیوں اور دیگر خواتین میں پائیدار ماحول اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے جدید طریقوں پر شعور بیدار کریں گی۔
خواتین کی معاشی خودمختاری اور ایکو ٹورازم کا فروغ
حکومتِ پاکستان اور خیبر پختونخوا انتظامیہ صرف ان تنظیموں کو ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں رکھ رہی بلکہ ان کے ذریعے مقامی خواتین کو مالیاتی طور پر بھی خودکفیل بنایا جا رہا ہے۔ ان تنظیموں کے ممبران کو جدید دستکاری، شہد کی مکھیاں پالنے اور کچن گارڈننگ کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ چترال میں آنے والے بین الاقوامی اور ملکی سیاحوں کے لیے یہ خواتین گائیڈز اور ایکو ٹورازم کے منصوبوں میں معاون کا کردار ادا کریں گی جس سے ان کے خاندانوں کو براہِ راست مالی فائدہ پہنچے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب مقامی برادری، خصوصاً خواتین کو جنگل کے تحفظ سے معاشی فائدہ ملے گا، تو وہ خود آگے بڑھ کر وائلڈ لائف کی محافظ بنیں گی۔






