دو برادر اسلامی ممالک پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو معاشی اور زرعی سطح پر مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم ملاقات اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ 17 اگست 2026 کو وفاقی وزیر برائے قومی غذایی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں تعینات مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن سے وزارت کے دفتر میں تفصیلی ملاقات کی۔
اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان زرعی تحقیق، تکنیکی مہارت کے تبادلے اور فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے اپنے اسٹریٹجک شراکت دار مصر کی جدید زرعی ترقی خصوصاً کپاس کے شعبے میں مہارت سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔
مصری مہارت سے کپاس کے معیار اور پیداوار میں بہتری کی درخواست
ملاقات کا سب سے نمایاں اور اہم ترین نکتہ پاکستان کے کپاس کے شعبے کو دوبارہ اپنے عروج پر لانا تھا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے مصری سفیر کو بتایا کہ پاکستان کو بہتر اقسام کے بیج، فصلوں کی دیکھ بھال، اور کپاس کی ویلیو ایڈیشن میں مصر کے طویل اور کامیاب تجربے کی شدید ضرورت ہے۔
مصر دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ ترین طویل ریشے والی کپاس کی اقسام کے لیے جانا جاتا ہے۔ رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر مصری ماہرین اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں تو پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار اور کپاس کے معیار کو راتوں رات بہتر بنایا جا سکتا ہے جس سے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔
زراعت کے دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ اشتراک
کپاس کے علاوہ اس ملاقات میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے دیگر متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ جن اہم امور پر اتفاق کیا گیا ان میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:
پانی کی بچت کا آبپاشی نظام : مصر کے جدید آبپاشی اور ڈرپ ایریگیشن سسٹمز سے سیکھنا تاکہ پاکستان میں پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
بائیو ٹیکنالوجی اور بیج کی تیاری: معیاری اور کلائمت اسمارٹ بیجوں کی تیاری کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنا۔
زراعت کی مکینائزیشن : کاشتکاری کے روایتی طریقوں کو جدید مشینری اور ڈیجیٹل زراعت پر منتقل کرنا۔
لائیو اسٹاک اور ہارٹیکلچر: مویشی بانی، دودھ اور گوشت کی پیداوار کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو بڑھانا۔
مصری سفیر کا مثبت ردعمل اور مستقبل کے اقدامات
مصری سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن نے وفاقی وزیر کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مصر کی حکومت اور متعلقہ زرعی ادارے پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے زرعی تحقیقی اداروں کے درمیان براہِ راست رابطے بحال کیے جائیں گے تاکہ مفاہمت کی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
مصری سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے پاس زرعی صلاحیتوں کا ایک بہت بڑا خزانہ موجود ہے اور اگر وہ مل کر تجارتی اور سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھیں تو خوراک کی سیکیورٹی کے عالمی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اشتراک پاکستان کے زرعی سیکٹر کو ایک نئی سمت دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔






