حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے مستحق اور خصوصی افراد کو معاشی طور پر خودکفیل بنانے اور انہیں معاشرے کا ایک باوقار حصہ بنانے کے لیے احساس امید کارڈ کی تفصیلات کے تحت ایک انقلابی اور انتہائی ہمدردانہ قدم اٹھایا ہے۔ مروجہ فلاحی پروگرام کے تحت باقاعدہ طور پر احساس امید کارڈ کا اجراء کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے شدید معذوری کا شکار افراد کو ہر ماہ 5,000 روپے کا مستقل نقد وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔
اس تاریخی اسکیم کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خصوصی افراد کے طبی، تعلیمی اور روزمرہ کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔ یہ پروگرام سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی جانب ایک سنگِ میل ہے جس کی نگرانی وزارتِ سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت کر رہی ہے۔
احساس امید کارڈ کے لیے بنیادی اہلیت کا معیار
حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ امداد صرف اور صرف حقیقی حقداروں تک پہنچے۔ اسی لیے احساس امید کارڈ کے حصول کے لیے سٹرکٹ اور شفاف معیارِ اہلیت مقرر کیا گیا ہے:
نادرا کا معذوری سرٹیفکیٹ: درخواست گزار کے پاس نادرا سے جاری کردہ خصوصی شناختی کارڈ ( یا معذوری کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ ہونا لازمی ہے۔
پی ایم ٹی اسکو: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہونے والے قومی سماجی و معاشی رجسٹری سروے کے مطابق، خاندان کا غربت کا اسکور مقررہ حد سے کم ہونا چاہیے۔
سرکاری ملازمت نہ ہو: درخواست گزار یا اس کا سرپرست کسی بھی سرکاری محکمے سے مستقل تنخواہ یا پینشن حاصل نہ کر رہا ہو۔
احساس امید کارڈ کی تفصیلات: آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ کار
وہ تمام افراد جو اس اسکیم کے معیار پر پورا اترتے ہیں، وہ درج ذیل آسان مراحل پر عمل کر کے اس پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں:
نادرا رجسٹریشن: سب سے پہلے اپنے قریبی نادرا سینٹر یا سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے اپنی معذوری کی نوعیت (جیسے بینائی سے محرومی، ذہنی یا جسمانی معذوری) کی تصدیق کرائیں اور خصوصی مونوگرام والا شناختی کارڈ حاصل کریں۔
رجسٹریشن ڈیسک کا دورہ: اپنے قریبی احساس یا بی آئی ایس پی تحصیل ڈیسک پر جائیں۔ اپنے ہمراہ اصل شناختی کارڈ، معذوری سرٹیفکیٹ اور فعال موبائل نمبر لازمی لے کر جائیں۔
آن لائن پورٹل چیک: حکومت کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر شہری اپنے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے اپنی اہلیت کی آن لائن تصدیق بھی کر سکتے ہیں۔
درخواست کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اہل پائے جانے والے افراد کو بائیومیٹرک تصدیق کے بعد احساس امید کارڈ جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں 5,000 روپے منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
رقم کی وصولی اور پارٹنر بینکوں کی تفصیلات
شفافیت کو برقرار رکھنے اور کٹوتیوں کے خاتمے کے لیے حکومت نے نامور بینکوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ احساس امید کارڈ کے حامل افراد اپنی ماہانہ 5,000 روپے کی رقم درج ذیل ذرائع سے باآسانی حاصل کر سکتے ہیں:
بائیومیٹرک اے ٹی ایم : نامزد پارٹنر بینکوں (جیسے بینک الفلاح یا حبیب بینک) کے بائیومیٹرک اے ٹی ایم پر انگوٹھا لگا کر رقم نکلوائی جا سکتی ہے۔
احساس ادائیگی مراکز: ملک بھر میں قائم مخصوص احساس ریٹیل شاپس یا ادائیگی مراکز سے بھی فیملی ممبرز یا خود خصوصی فرد بائیومیٹرک ویریفیکیشن کے بعد نقد رقم وصول کر سکتا ہے۔
خصوصی افراد کے لیے دیگر اضافی مراعات
احساس امید کارڈ صرف ماہانہ 5,000 روپے کے کیش ٹرانسفر تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کارڈ کے حامل افراد کو ریاست کی جانب سے دیگر کئی شعبوں میں بھی خصوصی رعایتیں دی جائیں گی:
مفت علاج معالجہ: صحت سہولت کارڈ کے تحت نامزد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں لاکھوں روپے تک کا مفت علاج۔
سفری کرایوں میں رعایت: پاکستان ریلوے اور سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ (جیسے میٹرو بس سروسز) کے کرایوں میں 50 فیصد تک کی خصوصی رعایت۔
امدادی آلات کی فراہمی: مستحق افراد کو مفت وہیل چیئرز، وہائٹ کین (سفید چھڑی) اور سماعت کے آلات کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی۔
حکومتِ پاکستان کا یہ اقدام خصوصی افراد کو سوسائٹی کا ایک فعال اور مضبوط ستون بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا اور ان کے خاندانوں کو معاشی ریلیف فراہم کرے گا۔






