پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملکی معیشت کی بحالی، کامیاب سٹریٹجک پالیسیوں اور ٹیکس اصلاحات میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والی اہم ترین شخصیات کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازنے کی باقاعدہ سفارشات پیش کر دی گئی ہیں۔ ان نامزدگیوں میں سب سے نمایاں نام نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین کا شامل ہے جنہوں نے گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران ملک کو درپیش شدید ترین معاشی بحران سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ان مایہ ناز شخصیات کے نام صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو حتمی منظوری کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ روایت کے مطابق ان اعزازات کا باقاعدہ اعلان یومِ آزادی کے موقع پر کیا جاتا ہے جبکہ انہیں دینے کی پروقار تقریب آئندہ سال 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر ایوانِ صدر میں منعقد ہوگی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی تزویراتی اور سفارتی خدمات
حکومتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سول اعزازات میں سے ایک کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان کی نامزدگی کی بنیادی وجوہات میں درج ذیل سٹریٹجک کامیابیاں شامل ہیں:
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ سیکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں اسحاق ڈار نے فرنٹ لائن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔
علاقائی تعاون کا فروغ: پیچیدہ علاقائی صورتحال کے باوجود برادر اسلامی ممالک اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی و دفاعی تعلقات کو ازسرنو مستحکم کیا۔
کشمیر اور فلسطین پر سفارتی موقف: بین الاقوامی فورمز خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی روشنی میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کی مؤثر وکالت کی۔
اعلیٰ سول اعزازات کے لیے نامزدگیاں: وزیر خزانہ اور معاشی بحالی کا مشن
وفاقی وزیر خزانہ کی نامزدگی پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالنے اور ملکی معیشت کو دوبارہ پٹری پر گامزن کرنے کے اعتراف میں کی گئی ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ان کی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ انتہائی کٹھن مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
اس کے علاوہ حکومتی پالیسیوں کی بدولت سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں بیرونِ ملک سے آنے والے زرمبادلہ میں 11.3 ارب امریکی ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی استحکام، مہنگائی کی شرح میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی لانے پر وزیر خزانہ کو اس اعزاز کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر اور ٹیکس اصلاحات کا اعتراف
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کو سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ اور معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کی قیادت میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان کی بڑی کامیابیوں میں کسٹمز جرمانوں کے نئے شیڈول (S.R.O. 136(I)/2026) کا نفاذ، پورٹ کلیئرنس کے عمل کو تیز بنانا، اور ہانگ کانگ کسٹمز کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کا تاریخی باہمی انتظامی معاونت کا معاہدہ شامل ہیں۔ ان اقدامات سے ملکی ریونیو میں اربوں روپے کا اضافہ متوقع ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ ان سول اعزازات کے ذریعے نہ صرف ان رہنماؤں کی انتھک محنت کا اعتراف ہوگا بلکہ دیگر سرکاری حکام اور وزراء کو بھی ملک و قوم کی خدمت کے لیے مزید لگن سے کام کرنے کی ترغیب ملے گی۔






