پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے خطے اور اس سے باہر پائیدار استحکام کے لیے ڈائیلاگ اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے راستے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ اہم بیانات انہوں نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ساتھ ہونے والی ایک حالیہ اور تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دیے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور بحرین کی جانب سے مبارکباد
اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان کو دلی مبارکباد پیش کی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنگِ میل اقدام قرار دیا۔ انہوں نے مشکل حالات میں پاکستان کے قائدانہ اور سفارتی کردار کو بھی سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بحرینی ہم منصب کے ان مخلصانہ جذبات اور تہنیتی پیغامات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
Deputy Prime Minister @MIshaqDar50 has reiterated Pakistan’s firm commitment to promoting dialogue and diplomacy to achieve peace and stability in the region and beyond.@ForeignOfficePk #News #RadioPakistan https://t.co/XhO9mGg6bR
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 11, 2026
بحرینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اور دوطرفہ تعلقات
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
دورے کی خواہش: بحرین کے وزیر خارجہ نے مستقبل قریب میں پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔
پاکستان کا خیرمقدم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کی پاکستان آمد کی خواہش کا پرجوش خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔
مذاکرات کا ایجنڈا: متوقع دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، سرمایہ کاری، اور سیکیورٹی کے شعبوں میں نئے معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
علاقائی روابط اور سفارتی وژن کے اہم نکات
پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کا بنیادی محور خطے میں تناؤ کو کم کرنا اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کردہ سفارتی وژن کے اہم نکات کو درج ذیل جدول کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:
| سفارتی ستون | بنیادی حکمتِ عملی | متوقع نتائج |
| مذاکرات اور ڈائیلاگ | جیو پولیٹیکل تناؤ کو ختم کرنے کے لیے میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنا۔ | علاقائی تصادم کا خاتمہ اور امن کا قیام۔ |
| دفاعی شراکت داری | مکہ معاہدے جیسے سہ فریقی فریم ورکس کو مضبوط بنانا۔ | مسلم ممالک کے درمیان سیکیورٹی کا استحکام۔ |
| اقتصادی سفارت کاری | خلیجی ممالک (GCC) کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط بڑھانا۔ | پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ۔ |
نائب وزیراعظم نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن کا قیام صرف اور صرف تعمیری سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور پاکستان اس مقصد کے لیے اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔






