ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن راولپنڈی نے امن و امان کے قیام، سیکیورٹی انتظامات اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مقامی چھٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) ندیم ناصر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق تحصیل راولپنڈی کی حدود میں آنے والے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا۔ اس کے تحت تمام اسکول، انٹر کالجز، ڈگری کالج اور پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیاں اس مقررہ تاریخ پر مکمل طور پر بند رہیں گی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور مختلف مذہبی و عوامی مصروفیات کے باعث ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا مقصود ہے۔
راولپنڈی میں تعلیمی اداروں کی چھٹی: تاریخ اور بنیادی وجہ
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے دفتر سے جاری کردہ انتظامی آرڈر کے مطابق تحصیل راولپنڈی کے میونسپل حدود میں 4 اگست 2026 (بروز منگل) کو مقامی تعطیل ہوگی۔ اس عام تعطیل کی بنیادی وجہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کار کے چہلم کا مرکزی جلوس ہے جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
چہلم کے اس بڑے مذہبی اجتماع کے دوران راولپنڈی شہر کے مرکزی تجارتی مراکز اور سڑکوں پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے طلبہ، اساتذہ اور والدین کی سفری سہولت اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی رسک یا ٹریفک بلاکیج سے بچنے کے لیے تمام تعلیمی اداروں کو ایک دن کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کا دائرہ اختیار اور کینٹ کے علاقوں کے لیے استثنیٰ
حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس چھٹی کا اطلاق صرف تحصیل راولپنڈی کی میونسپل حدود کے اندر واقع اداروں پر ہوگا۔
کینٹ کے تعلیمی ادارے: نوٹیفکیشن کے مطابق کینٹونمنٹ بورڈ (Cantonment Areas) کی حدود میں واقع اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں اس چھٹی سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ اپنے معمول کے شیڈول کے مطابق کھلے رہیں گے اور وہاں تدریسی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت ہدایات: آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ میونسپل حدود میں آنے والے نجی اسکولز اگر کلاسز یا امتحانات منعقد کریں گے تو ان کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
روٹ کی دکانیں بند اور میٹرو بس سروس کی جزوی معطلی
صرف تعلیمی ادارے ہی نہیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ نے چہلم کے جلوس کے روٹ پر اور اس کے آس پاس واقع تمام تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور دکانوں کو بھی بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات کے تحت یہ سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، راولپنڈی اور اسلام آباد کے مابین چلنے والی میٹرو بس سروس بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جزوی طور پر معطل رہے گی۔ جلوس کے قریبی اسٹیشنز پر بسوں کی آمد و رفت روک دی جائے گی جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس راولپنڈی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ یہ مذہبی اجتماع پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو سکے۔






