پاکستان کی ہونہار خاتون باکسر فاطمہ زہرا نے گلاسگو میں جاری عالمی مقابلوں میں ایک شاندار اور تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے پاکستان کے لیے پہلا تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔ اگست 2026 کے آغاز میں ہونے والے ویمنز باکسنگ کے 60 کلوگرام کیٹیگری ایونٹ میں فاطمہ زہرا نے برونز (کانسی) کا تمغہ حاصل کر کے ملکی کھیلوں کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون باکسر بن گئی ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر کامن ویلتھ گیمز 2026 کے اسٹیج پر کوئی میڈل حاصل کیا ہے۔ ان کی اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر کے کھیلوں کے حلقوں، شائقین اور معروف کھلاڑیوں کی جانب سے مبارکباد اور زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
فاطمہ زہرا کا کوارٹر فائنل میں کمال اور سیمی فائنل کا سنسنی خیز مقابلہ
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون باکسر فاطمہ زہرا نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی انتہائی جارحانہ اور پراعتماد کھیل کا مظاہرہ کیا۔ کوارٹر فائنل کے انتہائی اہم مقابلے میں انہوں نے نیوزی لینڈ کی مضبوط حریف جورڈن ولسن کو 5-0 کے واضح مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ سیمی فائنل میں کوالیفائی کرتے ہی انٹرنیشنل رولز کے مطابق ان کا برونز میڈل پکا ہو گیا تھا۔
سیمی فائنل میں ان کا مقابلہ کینیڈا کی انتہائی تجربہ کار اور تھری ٹائم نیشنل چیمپیئن باکسر میری بتول الاحمدیہ سے ہوا۔
پہلا راؤنڈ: کینیڈین باکسر نے ججز کے اسکور کارڈ پر 4-1 کی برتری حاصل کی۔
دوسرا راؤنڈ: دوسرے راؤنڈ کے دوران ریفری نے فائٹ روک کر کینیڈین کھلاڑی کو فاتح قرار دے دیا، جس کے باعث فاطمہ فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئیں۔
چونکہ باکسنگ کے فارمیٹ میں سیمی فائنل ہارنے والے دونوں کھلاڑیوں کو برونز میڈل دیا جاتا ہے اس لیے فاطمہ زہرا پاکستان کے لیے پوڈیم فنش کرنے میں کامیاب رہیں۔
🥉🇵🇰 Hear from Fatima Zahra after winning Pakistan's first medal at the Commonwealth Games 2026. 🎙️💚#CommonwealthGames #fatimazahra #PTVSports pic.twitter.com/PKpiVtEURF
— PTV Sports (@PTVSp0rts) July 31, 2026
میری کوم کا بائیوپک اور خاندانی رکاوٹیں توڑنے کا سفر
اولمپکس ڈاٹ کام کی آفیشل رپورٹ کے مطابق فاطمہ زہرا نے انکشاف کیا کہ بھارت کی مایہ ناز لیجنڈ باکسر میری کوم کی زندگی پر بنی فلم نے ان کے اس سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایک دن اپنی اس آئیڈیل کھلاڑی سے ملنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
فاطمہ نے بتایا کہ دیگر خواتین ایتھلیٹس کی طرح انہیں بھی آغاز میں شدید خاندانی اور سماجی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی فیملی شروع میں انہیں باکسنگ کی ٹریننگ پر جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی لیکن انہوں نے اپنی ضد اور محنت سے سب کو منایا۔ اب وہی خاندان ان کی فائٹ کے دوران سب سے زیادہ فکرمند اور پرجوش ہوتا ہے۔ فاطمہ کا ماننا ہے کہ ان کا یہ تمغہ پاکستان کی دیگر لڑکیوں کو بھی سماجی دقیانوسی سوچ توڑنے اور کھیلوں میں آگے بڑھنے کی ہمت دے گا۔
ارشد ندیم کی حیران کن شکست اور پاکستان کا مجموعی اسکور کارڈ
جہاں ایک طرف فاطمہ زہرا نے تاریخ رقم کی وہیں دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے میڈل ہوم یعنی اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور دفاعی چیمپیئن ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں کوئی بڑی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور ابتدائی راؤنڈز میں ہی باہر ہو گئے۔ ارشد ندیم اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آئے اور ان کی بہترین تھرو محض 77.41 میٹر رہی جس کی وجہ سے وہ ٹاپ پوزیشنز کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ اس ایونٹ کا سونا سری لنکا کے رمیش پتھیرگے نے 89.75 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ جیتا، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا دوسرے نمبر پر رہے۔
اس طرح گلاسگو میں کھیلے جانے والے ان گیمز میں 21 رکنی پاکستانی دستے میں سے صرف فاطمہ زہرا ہی واحد کھلاڑی رہیں جو ملک کے لیے تمغہ لا سکیں۔ یہ کارکردگی 2022 کے برمنگھم گیمز (جہاں پاکستان نے 7 میڈلز جیتے تھے) کے مقابلے میں کافی کم ہے لیکن ویمنز باکسنگ کے حوالے سے یہ پاکستان کا ایک شاندار تاریخی سنگِ میل ہے۔






