پاکستان نے خطے میں سمندری سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر الملکی سعودی بحری دفاعی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ریاض میں ہونے والے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان سمیت دنیا کے 14 ممالک نے اس اسٹریٹجک اتحاد کے قیام کی توثیق کرتے ہوئے اس کے چارٹر کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے فوجی اور بحری اتحاد کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر (Red Sea)، خلیج عدن (Gulf of Aden)، اور آبنائے باب المندب (Bab al-Mandeb Strait) جیسے انتہائی اہم اور حساس بین الاقوامی بحری راستوں کو سیکیورٹی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
سعودی بحری دفاعی اتحاد: مقاصد اور تنظیمی ڈھانچہ
سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں دنیا بھر کے 51 ممالک اور یورپی یونین کے وفود نے شرکت کی جس سے اس بین الاقوامی اقدام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس نئے بحری اتحاد کی کمانڈ اور ہیڈ کوارٹر سعودی عرب کے پاس ہوں گے۔
اس اتحاد کا بنیادی ڈھانچہ درج ذیل اہم ستونوں پر مشتمل ہوگا:
مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر : جہاں سے تمام اتحادی ممالک کی بحری سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی۔
کمبائنڈ میگا آپریشنز سینٹر: کسی بھی ہنگامی صورتحال یا سمندری حملے کی صورت میں فوری فوجی جوابی کارروائی کو منظم کرنا۔
جنرل سیکرٹریٹ : یہ سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا جو مستقل انتظامی امور کو سنبھالے گا۔
اس اتحاد کا بنیادی مقصد کمرشل بحری جہازوں، تیل کے ٹینکرز اور سمندری انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کو روکنا ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکے۔
پاکستان کی شمولیت اور اسٹریٹجک اہمیت
پاکستان کی پاک بحریہ طویل عرصے سے بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی ٹاسک فورسز کا حصہ رہی ہے۔ اس نئے سعودی بحری دفاعی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت جہاں پاک-سعودی دفاعی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گی وہاں یہ پاکستان کے اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ پاکستان اپنی توانائی (خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات) کا ایک بڑا حصہ انہی بحری راستوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ مہینوں میں سعودی تیل کے ٹینکرز اور بین الاقوامی جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے بعد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان رابطے ہوئے تھے جس میں بحری تجارت کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔
Fourteen countries, including Pakistan, have affirmed their support for Multinational Maritime Defense Alliance project aimed at enhancing maritime security and protecting international waterways@OfficialDGISPR @ForeignOfficePk #RadioPakistan #News https://t.co/4uEwHiews5 pic.twitter.com/ieW54TCx94
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 30, 2026
اتحاد کا دفاعی رخ اور بانی ممالک کی فہرست
سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی خاص ریاست یا تنظیم کو نشانہ بنانے کے لیے قائم نہیں کیا گیا۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق کام کرے گا۔
اس اتحاد کے 14 بانی ارکان میں درج ذیل ممالک شامل ہیں:
سعودی عرب (قائد اور میزبان)
پاکستان
ترکیہ
مصر
کویت
بحرین
قطر
اردن
یمن
بنگلہ دیش
نائیجیریا
سوڈان
جیبوتی
صومالیہ / کوموروس
دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیج کے دو اہم ممالک، متحدہ عرب امارات (UAE) اور عمان اس اتحاد کے بانی دستخط کنندگان میں شامل نہیں ہیں تاہم سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ جو بھی ملک ان مقاصد پر متفق ہو،اس کے لیے اس اتحاد کے دروازے کھلے ہیں۔ انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ بحری مشقیں اور آپریشنل پلاننگ اس اتحاد کی بنیادی سرگرمیوں کا حصہ ہوں گی۔






