پاکستان نیوی نے سمندری حدود میں انسانی ہمدردی اور پبلک سیفٹی کے عزم پر کاربند رہتے ہوئے شمالی بحیرہ عرب میں ایک انتہائی پیچیدہ اور کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن انجام دیا ہے۔ اس اہم کارروائی کے دوران پاک بحریہ کے مستعد عملے نے سمندر کی تند و تیز لہروں کے درمیان پھنسی ہوئی ایک ماہی گیر کشتی پر سوار تمام 19 ملاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔ بچائے جانے والے عملے میں 11 پاکستانی اور 8 ایرانی باشندے شامل ہیں جو کئی گھنٹوں سے سمندر کے بیچوں بیچ مدد کے منتظر تھے۔ یہ کارروائی پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، سمندری نگرانی کے جدید نظام اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔
سمندر میں پھنسنے کی وجوہات اور ہنگامی صورتحال
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماہی گیری کی یہ لانچ گہرے سمندر میں انجن فیل ہونے یا فنی خرابی کے باعث بے یار و مددگار ہو گئی۔ سمندر میں لہروں کے شدید دباؤ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے کشتی ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہو گئی تھی۔ کشتی کے عملے نے ہنگامی بنیادوں پر مدد کی اپیل جاری کی جسے پاک بحریہ کے بحری نگرانی کے مرکز نے فوری طور پر موصول کیا۔ چونکہ سمندر میں ایسے حالات میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے قریبی پوزیشن پر موجود پاک بحریہ کے جنگی جہاز اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کیا گیا۔
#PakistanNavy successfully carried out a rescue operation to save a stranded fishing boat in the North Arabian Sea@OfficialDGISPR @dgprPaknavy @PakistanNavy #RadioPakistan #News https://t.co/w7OjfyUkMS pic.twitter.com/arAlc5lvVW
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 30, 2026
سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے اہم مراحل
پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق مشن کے آغاز پر سب سے بڑا چیلنج کھلے سمندر میں تیز ہواؤں کے باوجود کشتی کی درست لوکیشن کا تعین کرنا تھا۔ جیسے ہی پاک بحریہ کا جہاز جائے وقوعہ پر پہنچا، ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
محفوظ منتقلی: سمندری لہروں کے تیز بہاؤ کے باوجود تمام 19 ملاحوں کو انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ پاک بحریہ کے جہاز پر منتقل کیا گیا۔
طبی امداد کی فراہمی: جہاز پر منتقل کرنے کے فوراً بعد تمام ملاحوں کا تفصیلی طبی معائنہ (Medical Checkup) کیا گیا۔ کئی گھنٹوں تک سمندر میں پھنسے رہنے کی وجہ سے عملے کے کچھ ارکان تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار تھے، جنہیں فوری طبی امداد اور فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔
خوراک اور پناہ: تمام بچائے گئے پاکستانی اور ایرانی شہریوں کو گرم کپڑے، تازہ خوراک اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا تاکہ ان کی حالت مستحکم ہو سکے۔
پاک ایران سفارتی تعلقات اور سمندری تعاون پر اثرات
اس کامیاب کارروائی کے دوران 8 ایرانی شہریوں کا بحفاظت ریسکیو کیا جانا پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ اور سفارتی تعلقات میں مزید پختگی کا باعث بنے گا۔ بین الاقوامی سمندری قوانین (International Maritime Law) کے تحت سمندر میں کسی بھی ملک کے شہری کو مصیبت کے وقت بچانا ہر ساحلی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاک بحریہ نے ہمیشہ ان قوانین پر سختی سے عمل کیا ہے۔ ایرانی ملاحوں کو بچانے کے بعد متعلقہ سفارتی چینلز کے ذریعے تہران حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر ان کے ملک روانہ کیا جا سکے۔
اختتامی کلمات اور مستقبل کا لائحہ عمل
پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری بحری افواج نہ صرف ملکی سمندری سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ بحیرہ عرب میں تجارتی گزرگاہوں اور انسانی جانوں کے تحفظ کی بھی سب سے بڑی ضامن ہیں۔ سمندر میں ماہی گیروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری رسپانس کے لیے پاک بحریہ کا نیٹ ورک 24 گھنٹے الرٹ رہتا ہے۔






