پاکستان کو جدید ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور سرکاری اداروں کو فوری طور پر روایتی کاغذی نظام چھوڑ کر نئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ڈیٹا سینٹر اور سسٹم پر منتقل ہونے کا حتمی حکم جاری کر دیا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم آفس میں Prime Minister’s Office System (PMOS) اور ملک کے سب سے بڑے کلاؤڈ ڈیٹا سینٹر Sky47 کے افتتاح کے بعد یہ فیصلہ پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اب دفتری امور میں سست روی اور فائلوں کو ہاتھ میں لے کر گھومنے کا روایتی کلچر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی اداروں کو فوری منتقلی کی ہدایات اور وزیراعظم کا سخت موقف
وزیراعظم شہباز شریف نے افتتاحی تقریب اور جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام سرکاری حکام اور بیوروکریسی کو دوٹوک پیغام دیا۔ انہوں نے کہا، "آج کے بعد میں اپنے دفتر میں کسی بھی افسر کو ہاتھ میں جسمانی فائل لیے ہوئے دیکھنے کی توقع نہیں رکھتا، تمام تر دفتری امور اور فیصلوں پر بحث اسی خودکار ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوگی۔”
حکومت کی جانب سے متعارف کروایا گیا یہ پراجیکٹ Digital Nation Pakistan Act 2025 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد تمام سرکاری محکموں کے ڈیٹا کو ایک مرکزی اور محفوظ ڈیجیٹل چھتری تلے لانا ہے تاکہ مختلف اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو تیز اور شفاف بنایا جا سکے۔
نیا اے آئی گورننس سسٹم (PMOS) روایتی نظام سے کیسے مختلف ہے؟
ماضی میں پاکستان کے سرکاری محکموں میں ای-آفس (E-Office) جیسے سسٹمز متعارف کروائے گئے، لیکن وہ صرف ڈیٹا اسٹوریج یا فائلز کو اسکین کرنے تک محدود تھے۔ اس کے برعکس، موجودہ جدید نظام میں گورننس میں اے آئی کا استعمال پہلی بار عملی طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس سسٹم کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
ذہین تجزیہ اور درجہ بندی: یہ سسٹم محض فائلوں کا ریکارڈ نہیں رکھتا بلکہ اے آئی الگورتھمز کی مدد سے وزیراعظم کی جاری کردہ ہدایات کو پڑھتا، سمجھتا اور خودکار طریقے سے ان کی درجہ بندی کرتا ہے۔
ریل ٹائم ٹریکنگ (Real-Time Tracking): وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے ہر حکم نامے کی مانیٹرنگ کی جائے گی کہ وہ کس مرحلے پر ہے، کس افسر کے پاس زیرِ التوا ہے، اور اس پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔
پیپر لیس ورکنگ انوائرمنٹ: تمام دفتری خط و کتابت، نوٹس اور سمریز ڈیجیٹل ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ قومی خزانے کے کروڑوں روپے کے فنڈز بھی بچیں گے۔
فیصلہ سازی میں مدد (Decision Support): یہ محفوظ آئی ٹی ماحول سیکیورٹی اور اینالیٹکس کو یکجا کر کے حکام کو ڈیٹا پر مبنی درست فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل پر اس فیصلے کے اثرات
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں تیار کیا جانے والا یہ فریم ورک پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اپنانے والے ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔ حکومت نے پہلے ہی یہ ہدف مقرر کر رکھا ہے کہ سال 2030ء تک پاکستان کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیکٹر میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
سرکاری محکموں کا ڈیٹا جب Sky47 جیسے مرکزی ڈیٹا سینٹر پر شفٹ ہوگا، تو بیوروکریٹک تاخیر (Red Tape) کا مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ عوام کو براہِ راست ریلیف ملے گا کیونکہ سرکاری اسکیموں، فنڈز کی منظوری اور ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اب چند کلکس کی دوری پر ہوگی۔ وزیراعظم نے انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم کرنے اور نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو ڈیجیٹل پاور ہاؤس بنایا جا سکے۔






