محکمہ صحت حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے میڈیکل اداروں میں اعلیٰ طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹریننگ کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی ہدایات اور قوانین جنوری 2027 کے ایڈمیشن سیشن سے نافذ العمل ہوں گے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) اور میڈیکل یونیورسٹیوں (MD/MS) کے امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور میرٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اگر آپ ایک ڈاکٹر ہیں اور مستقبل قریب میں اسپیشلائزیشن کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کے لیے ان نئے قوانین کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹ (PGET) کا لازمی نفاذ
جنوری 2027 کے سیشن سے کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹ (PGET) کا لازمی قرار دیا جانا ہے۔ اب پنجاب کے سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں لیول-III پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی پروگرامز (جیسے MS, MD, MDS اور FCPS) میں داخلے کے لیے یہ ٹیسٹ پاس کرنا ہر امیدوار کے لیے لازمی ہوگا۔
اس ٹیسٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
امتحان کا انعقاد: یہ داخلہ ٹیسٹ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) لاہور کی جانب سے منعقد کروایا جائے گا۔
اہلیت کا معیار (75th Percentile): امیدواروں کے لیے امتحان میں کم از کم 75ویں پرسنٹائل (75th Percentile) اسکور کرنا لازمی ہوگا۔ یاد رہے کہ 75 پرسنٹائل کا مطلب 75 فیصد نمبر نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو امتحان میں بیٹھنے والے کل امیدواروں میں سے اوپر کے 25 فیصد ڈاکٹروں میں شامل ہونا ہوگا۔
سلیبس اور شیڈول: یو ایچ ایس (UHS) کی جانب سے ٹیسٹ کا باقاعدہ سلیبس، امتحانی پیٹرن اور رجسٹریشن کا شیڈول جلد ہی الگ سے جاری کیا جائے گا۔
سیکنڈ فیلوشپ (لیول-IV) کے لیے نئی سیٹ ایلوکیشن پالیسی
محکمہ صحت پنجاب کی جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق سینٹرل انڈکشن پروگرام کے تحت سیکنڈ فیلوشپ (جسے پہلے لیول-IV کہا جاتا تھا) کی ٹریننگ اب خصوصی طور پر یونیورسٹی ڈگری پروگرامز یعنی ایم ڈی (MD) اور ایم ایس (MS) کے تحت پیش کی جائے گی۔ تاہم وہ ڈاکٹرز جو پہلے سے ایف سی پی ایس (FCPS) کی کوالیفکیشن رکھتے ہیں وہ بھی اس سیکنڈ فیلوشپ ٹریننگ کے لیے مکمل طور پر اہل رہیں گے۔
اس نظام کو منصفانہ بنانے کے لیے حکومت نے سیٹوں کی تقسیم کا ایک نیا فارمولا وضع کیا ہے:
50:50 کوٹہ سسٹم: سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں سیکنڈ فیلوشپ کی سیٹیں یونیورسٹی سے تصدیق شدہ MD/MS ڈگری ہولڈرز اور CPSP کے FCPS پاس امیدواروں کے درمیان برابر (50 فیصد اور 50 فیصد) تقسیم کی جائیں گی۔
یکساں مواقع: اس اقدام سے یونیورسٹی پروگرامز اور فزیشنز کالج کے گریجویٹس دونوں کو اسپیشلائزیشن کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔
میرٹ کرائیٹیریا اور اکیڈمک اسکورنگ میں تبدیلیاں
پچھلے انڈکشن سائیکلز کی طرح حکومت نے میٹرک، ایف ایس سی (FSc) اور ہاؤس جاب کے روایتی نمبروں کو میرٹ لسٹنگ سے مکمل طور پر نکال دیا ہے۔ اب سارا فوکس پروفیشنل قابلیت پر رکھا گیا ہے جس میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس (MBBS/BDS) کے پروفیشنل امتحانات کے نمبر، یونیورسٹی پوزیشنز اور کلینیکل تجربے کے پوائنٹس شامل ہوں گے۔
سرکاری محکموں میں لازمی سروس (Compulsory Service) کی شرط بھی برقرار رہے گی جس کے تحت سرکاری خرچ پر ٹریننگ حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کو مخصوص مدت کے لیے اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں خدمات سرانجام دینا ہوں گی۔ تمام خواہشمند امیدواروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ داخلے کے عمل کے آغاز سے پہلے ہی اپنی تیاریاں مکمل رکھیں اور اپ ڈیٹس کے لیے محکمہ صحت پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ کا باقاعدگی سے وزٹ کریں۔






