حکومتِ پاکستان نے شفافیت کو فروغ دینے، کرپشن کا خاتمہ کرنے اور مستحق خواتین کو قطاروں کی زحمت سے بچانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو اب مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے خصوصی وژن کے تحت بی آئی ایس پی انتظامیہ نے روایتی کیش پوائنٹس اور ایجنٹ مافیا کے چنگل سے نکلنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈیجیٹل بینکنگ سسٹم کا دائرہ کار پورے ملک میں نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت اب تمام رجسٹرڈ خواتین کو ان کی قسطیں براہِ راست ان کے ذاتی بائیومیٹرک تصدیق شدہ کمرشل بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔
یہ تبدیلی لاکھوں خواتین کے لیے خوش آئند تو ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت نے کچھ لازمی ڈیڈ لائنز (آخری تاریخیں) بھی مقرر کی ہیں، جن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آپ کی اگلی قسط روکی جا سکتی ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو ڈیجیٹل بینکنگ کی تمام لازمی تاریخوں اور طریقہ کار سے تفصیل سے آگاہ کریں گے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈیجیٹل بینکنگ سسٹم اور بینکوں کا نیا معاہدہ
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن کے حالیہ اعلانات کے مطابق پروگرام کو 100 فیصد ڈیجیٹل کرنے کے لیے ملک کے 6 بڑے کمرشل بینکوں کے ساتھ شراکت داری کا باقاعدہ معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب مستحقین کو ایجنٹوں کے پاس جا کر کٹوتیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ نامزد بینکوں کی بائیومیٹرک اے ٹی ایم (ATM) مشینوں، دکانوں یا قریبی برانچوں سے عزتِ نفس کے ساتھ اپنی پوری رقم حاصل کر سکیں گی۔
اس نئے نظام کے لیے منتخب کردہ بینکوں میں نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)، حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، بینک الفلاح، یو بی ایل (UBL)، اور الائیڈ بینک شامل ہیں۔ ان بینکوں کے اشتراک سے ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں بھی ڈیجیٹل کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
اکاؤنٹ کھولنے اور تصدیق کی لازمی آخری تاریخیں
حکومتِ پاکستان نے تمام موجودہ اور نئے مستحقین کے لیے اپنے اکاؤنٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا ایک باقاعدہ فیز وائز (مرحلہ وار) شیڈول جاری کیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا مرحلہ (بڑے شہر اور اضلاع): اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہروں کے مستحقین کے لیے اپنے قریبی نامزد بینک میں جا کر بائیومیٹرک اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے۔
دوسرا مرحلہ (وسطی اضلاع): پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے دیگر وسطی اضلاع کے لیے اکاؤنٹ کی ڈیجیٹل میپنگ مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن 30 ستمبر 2026 ہے۔
تیسرا مرحلہ (دور دراز اور پسماندہ علاقے): بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کے صحرائی و پہاڑی علاقوں کے مستحقین کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2026 رکھی گئی ہے۔
اہم انتباہ: وہ تمام مستحق خواتین جو ان دی گئی تاریخوں سے پہلے اپنے قریبی بی آئی ایس پی تحصیل آفس یا نامزد بینک سے اپنا ڈیجیٹل اکاؤنٹ لنک نہیں کروائیں گی ان کی جنوری 2027 کی سہ ماہی قسط عارضی طور پر بلاک کر دی جائے گی۔
مستحقین کے لیے اپنا اکاؤنٹ ڈیجیٹل کرنے کا آسان طریقہ کار
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈیجیٹل بینکنگ سسٹم کا حصہ بننے کے لیے درج ذیل مراحل پر عمل کرنا لازمی ہے:
نادرا شناختی کارڈ کی تجدید: سب سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ آپ کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) زائد المیعاد (Expired) نہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو فوراً نادرا دفتر سے نیا کارڈ بنوائیں۔
موبائل سم کی تصدیق: بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ موبائل نمبر لازمی طور پر اسی خاتون کے نام پر رجسٹرڈ ہونا چاہیے جو پروگرام کی مستحق ہے۔
بینک وزٹ یا بی آئی ایس پی کیمپ: حکومت کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اپنے علاقے کے نامزد بینک یا بی آئی ایس پی کے قریبی رجسٹریشن سینٹر پر جائیں۔ وہاں موجود نمائندہ آپ کا انگوٹھا لگوا کر (Biometric Verification) آپ کا ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھول دے گا جس کا تصدیقی ایس ایم ایس آپ کو 8171 سے موصول ہوگا۔
ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد اور جعل سازی کا خاتمہ
اس انقلابی ڈیجیٹل سسٹم کے نفاذ سے مستحقین کو درج ذیل بڑے فوائد حاصل ہوں گے:
کٹوتیوں کا مکمل خاتمہ: اب کوئی بھی ایجنٹ آپ کی قسط سے 500 یا 1000 روپے کی غیر قانونی کٹوتی نہیں کر سکے گا۔
وقت کی بچت: خواتین کو اب تپتی دھوپ میں گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا وہ مہینے میں کسی بھی وقت اے ٹی ایم سے رقم نکال سکیں گی۔
مکمل رقم کی حفاظت: رقم بینک اکاؤنٹ میں محفوظ رہے گی جسے مستحق خاتون اپنی ضرورت کے مطابق قسطوں میں بھی نکلوا سکتی ہے۔
بی آئی ایس پی کا یہ اقدام غریب اور مستحق خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔






