پاکستان میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہر گاڑی مالک پریشان ہے۔ ایسے میں مائلیج کو بہتر کرنا کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی کار کی کم مائلیج کا گلہ کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ چند بنیادی تبدیلیاں کر کے وہ ایندھن کا بھاری خرچ بچا سکتے ہیں۔ اگر آپ بھی مستقل بنیادوں پر پٹرول کی بچت کرنا چاہتے ہیں تو گاڑی کی پٹرول ایوریج بڑھانے کا طریقہ جاننا آپ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو ایسے 3 عملی اور آزمودہ طریقے بتائیں گے جو سائنسی اور مکینیکل طور پر آپ کی کار کی مائلیج کو فوری بہتر بنا سکتے ہیں۔
1. ٹائروں میں ہوا کا درست دباؤ برقرار رکھیں
ٹائر گاڑی کا وہ واحد حصہ ہیں جو براہ راست سڑک سے جڑتا ہے۔ اگر آپ کے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ (PSI) تجویز کردہ حد سے کم ہو تو سڑک پر ٹائر کی گرفت کا رقبہ بڑھ جاتا ہے جس سے رولنگ ریزسٹنس (Rolling Resistance) پیدا ہوتی ہے۔
جب ٹائروں میں ہوا کم ہوتی ہے تو انجن کو گاڑی آگے بڑھانے کے لیے زیادہ طاقت لگانی پڑتی ہے۔ اس کا سیدھا اثر آپ کی جیب پر پڑتا ہے کیونکہ انجن زیادہ پٹرول کھینچتا ہے۔
عملی حل: اپنی گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے دروازے پر لگے اسٹیکر سے درست پی ایس آئی (PSI) چیک کریں اور ہر ہفتے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ برقرار رکھیں۔ صرف اس ایک عادت سے آپ پٹرول کی ایوریج میں 3% سے 5% تک واضح بہتری دیکھ سکتے ہیں۔
2. ایئر فلٹر کی بروقت صفائی اور تبدیلی
انٹرنل کمبشن انجن (Internal Combustion Engine) کو چلنے کے لیے پٹرول کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں صاف ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کے دھول مٹی والے ماحول میں گاڑی کا ایئر فلٹر بہت جلدی چوک (Clog) ہو جاتا ہے۔
انجن پر دباؤ: جب ایئر فلٹر گندا ہوتا ہے تو انجن کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے گاڑی کا کمپیوٹر زیادہ مقدار میں پٹرول سلنڈرز میں بھیجتا ہے جسے آٹو موبائل کی زبان میں "رننگ رچ” (Running Rich) کہا جانا کہتے ہیں۔ اس سے پٹرول کا ضیاع دگنا ہو جاتا ہے۔
بچت کا طریقہ: ہر 2 سے 3 ہزار کلومیٹر کے بعد ایئر فلٹر کو ہوا کے پریشر سے صاف کروائیں اور مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق اسے تبدیل کریں۔ صاف فلٹر انجن کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور ایندھن کا خرچ کم کرتا ہے۔
3. ڈرائیونگ کے انداز میں تبدیلی اور ونڈوز کا درست استعمال
گاڑی چلانے کا غیر محتاط انداز جیسے اچانک تیز ریس دینا (Hard Acceleration) اور بار بار بریک لگانا پٹرول کی ایوریج کو 30% تک تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ تیز رفتاری میں گاڑی کے شیشے کھلے رکھنا بھی نقصان دہ ہے۔
گاڑی کی ایروڈائنامکس: جب آپ ہائی وے یا موٹروے پر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار پر شیشے کھلے رکھتے ہیں، تو ہوا گاڑی کے اندر داخل ہو کر ایک پیراشوٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ اسے ایروڈائنامک ڈریگ (Aerodynamic Drag) کہتے ہیں۔ اس مزاحمت کے خلاف گاڑی کو آگے دھکیلنے کے لیے انجن عام حالت سے کہیں زیادہ پٹرول استعمال کرتا ہے۔
بہترین فارمولا: شہر کے اندر کم رفتار (40 کلومیٹر سے کم) پر آپ اے سی بند کر کے شیشے کھول سکتے ہیں۔ لیکن تیز رفتاری میں ہمیشہ شیشے بند رکھیں اور ہلکے پریشر پر اے سی (AC) چلائیں۔ یہ طریقہ کار آپ کے پٹرول کے خرچ کو نمایاں حد تک کم کر دے گا۔
ان تینوں بنیادی اور کم خرچ طریقوں پر عمل کر کے آپ فوری طور پر اپنی کار کی مائلیج کو بہتر بنا سکتے ہیں۔






