پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے پاس ہر سال انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی ایک آخری تاریخ مقرر ہوتی ہے۔ لیکن بہت سے ٹیکس دہندگان کسی مجبوری، لاپرواہی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے وقت پر اپنے گوشوارے جمع نہیں کروا پاتے۔ ایسی صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیکس ریٹرن آخری تاریخ گزرنے کے بعد بھی فائل کیے جا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہے جی ہاں! آپ مقررہ تاریخ کے بعد بھی ریٹرن جمع کروا سکتے ہیں لیکن اس لیٹ ٹیکس ریٹرن فائلنگ پر ایف بی آر کے قوانین کے مطابق جرمانے اور اضافی فیسیں عائد ہوتی ہیں۔ اگر آپ نے بھی ابھی تک اپنا ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا تو آپ کو فوری طور پر اس کے قوانین اور جرمانوں کے بارے میں جاننا چاہیے۔
ایف بی آر ڈیڈ لائن کے بعد ریٹرن فائل کرنے کا طریقہ کار
اگر انکم ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ گزر چکی ہے تو آپ درج ذیل دو طریقوں سے اپنے گوشوارے جمع کروا سکتے ہیں:
توسیع کی درخواست (Extension Application): اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ وقت پر ریٹرن فائل نہیں کر پائیں گے تو آپ آخری تاریخ سے پہلے یا فوراً بعد ایف بی آر کے Iris Web Portal پر آن لائن لاگ ان کر کے کمشنر کو تاریخ میں توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں۔ عام طور پر 15 سے 30 دن کی توسیع مل جاتی ہے۔
براہِ راست لیٹ فائلنگ (Direct Late Filing): اگر آپ نے توسیع کی درخواست نہیں دی تو آپ تب بھی پورٹل پر جا کر متعلقہ ٹیکس سال کا ڈیکلریشن فارم فل کر کے سبمٹ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس صورت میں آپ کا شمار "لیٹ فائلرز” (Late Filers) میں ہوگا۔
لیٹ ٹیکس ریٹرن فائلنگ پر عائد ہونے والے جرمانے
ایف بی آر کے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت مقررہ وقت کے بعد ریٹرن جمع کروانے پر درج ذیل سزائیں اور جرمانے لگائے جا سکتے ہیں:
1۔ یومیہ اور کم از کم جرمانہ (Daily and Minimum Penalty)
قانون کے مطابق وقت پر ریٹرن فائل نہ کرنے پر 1,000 روپے روزانہ کے حساب سے جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔
تنخواہ دار افراد (Salaried Individuals): ان کے لیے کم از کم جرمانہ 10,000 روپے تک ہو سکتا ہے۔
غیر تنخواہ دار/کاروباری افراد (Non-Salaried/Business): کاروباری طبقے اور دیگر افراد کے لیے کم از کم جرمانہ 40,000 روپے یا اس سے زائد ہو سکتا ہے۔
2۔ ڈیفالٹ سرچارج (Default Surcharge)
اگر آپ کی طرف کوئی ٹیکس واجب الادا (Tax Payable) تھا اور آپ نے اسے آخری تاریخ تک جمع نہیں کروایا، تو اصل ٹیکس کی رقم پر ماہانہ بنیادوں پر سرچارج (سود) بھی ادا کرنا پڑے گا۔
ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں نام شامل کرنے کی فیس
مقررہ تاریخ کے بعد ریٹرن فائل کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں شامل نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے آپ پر فائلر والے کم ٹیکس ریٹ لاگو نہیں ہوتے۔ لیٹ ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے بعد اپنے نام کو دوبارہ ایکٹو (فائلر) کروانے کے لیے آپ کو سربراہ سرچارج (ATL Surcharge) ادا کرنا پڑتا ہے:
| ٹیکس دہندہ کی قسم (Taxpayer Type) | اے ٹی ایل سرچارج فیس (ATL Surcharge Fee) |
| انفرادی شخص / تنخواہ دار (Individual / Salaried) | 1,000 روپے |
| ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs) | 10,000 روپے |
| کمپنی (Company) | 20,000 روپے |
یہ سرچارج چالان (PSID) بنا کر جمع کروانے کے بعد ہی آپ کا نام پورٹل پر ایکٹو شو ہوتا ہے۔
نان-فائلرز کے خلاف ایف بی آر کے سخت اقدامات
اگر کوئی شخص مسلسل نوٹسز کے باوجود کئی سال تک اپنے ریٹرن فائل نہیں کرتا، تو ایف بی آر کے پاس اب سیکیورٹی اور انفرسمنٹ کے تحت یہ اختیارات حاصل ہیں:
بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا: ایف بی آر قانون کے تحت ڈیفالٹرز کے بینک اکاؤنٹس فریز کر سکتا ہے۔
بجلی اور گیس کے کنکشن کی بندش: ٹیکس چوری یا عدم ادائیگی پر یوٹیلیٹی کنکشنز کاٹے جا سکتے ہیں۔
سفر پر پابندی: مسلسل نان-فائلرز کا نام اسٹاپ لسٹ یا پروویژنل لسٹ میں ڈال کر بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایف بی آر ٹیکس ریٹرن کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھی فائلنگ کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آپ کو مالی جرمانوں اور اضافی فیسوں کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔ کسی بھی قانونی کارروائی یا بینکنگ ٹرانزیکشنز پر اضافی ٹیکس سے بچنے کا بہترین حل یہی ہے کہ جیسے ہی آپ کو یاد آئے فوری طور پر اپنا لیٹ ٹیکس ریٹرن فائلنگ کا عمل مکمل کریں اور سرچارج ادا کر کے خود کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل رکھیں۔






