پاکستان میں شادی کی کم از کم قانونی عمر اور نکاح کی رجسٹریشن کا معاملہ ایک بار پھر ملک کے قانونی اور مذہبی حلقوں میں بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی حالیہ قانون سازی کو وفاقی شرعی عدالت (Federal Shariat Court) میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ مہم جو گروپوں، مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے درمیان یہ قانونی جنگ اس بات پر ہے کہ آیا شادی کی عمر کا تعین ریاست کا اختیار ہے یا اسے خالصتاً بلوغت (Puberty) سے مشروط ہونا چاہیے۔
اس مضمون میں ہم تفصیلاً جائزہ لیں گے کہ پاکستان میں شادی کے قوانین کے موجودہ قوانین کیا ہیں شرعی عدالت میں دائر حالیہ پٹیشنز کے کیا معنی ہیں اور اس سے عام شہریوں کے نکاح نامہ کی رجسٹریشن پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ قانونی تنازعہ کیا ہے؟ اسلام آباد اور پنجاب کے قوانین کو چیلنج
پاکستان میں حالیہ مہینوں اور سالوں کے دوران کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے اہم ترین پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ پارلیمنٹ نے اسلام آباد کی حد تک چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 منظور کیا جبکہ پنجاب حکومت نے ‘پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026’ نافذ کیا۔ ان دونوں قوانین کے تحت لڑکے اور لڑکی، دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
تاہم، جون 2026 میں مذہبی جماعتوں (جیسے جے یو آئی) اور دیگر درخواست گزاروں نے ان قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ:
اسلام میں نکاح کی اہلیت کا تعلق بلوغت سے ہے نہ کہ کسی مخصوص عمر (جیسے 18 سال) سے۔
18 سال سے کم عمر افراد کے نکاح کو جرم قرار دینا اور نکاح خوان یا والدین کو سزائیں دینا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔
صوبوں کے لحاظ سے شادی کی عمر کے موجودہ قوانین
پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد شادی کے قوانین بنانا صوبوں کا اختیار ہے جس کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں عمر کی حد مختلف ہے۔ موجودہ گراؤنڈ رئیلٹی درج ذیل ہے:
| علاقہ / صوبہ | لڑکے کی کم از کم عمر | لڑکی کی کم از کم عمر | قانونی حیثیت |
| اسلام آباد (ICT) | 18 سال | 18 سال | چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 |
| پنجاب | 18 سال | 18 سال | پنجاب آرڈیننس 2026 (حالیہ چیلنج کے تحت) |
| سندھ | 18 سال | 18 سال | سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 |
| خیبر پختونخوا اور بلوچستان | 18 سال | 16 سال | پرانا چائلڈ میرج ایکٹ (تبدیلی کے عمل میں) |
وفاقی شرعی عدالت کے ماضی کے فیصلے اور اثرات
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ شادی کی عمر کی حد کو شرعی عدالت میں پرکھا جا رہا ہو۔ اس سے قبل 2021 اور 2024 (علی اظہر بنام صوبہ سندھ کیس) میں وفاقی شرعی عدالت یہ تاریخی رولنگ دے چکی ہے کہ ریاست کی جانب سے شادی کے لیے ایک مخصوص کم از کم عمر (جیسے 18 سال) کا تعین کرنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں میں واضح کیا تھا کہ اسلام میں صرف بلوغت ہی نہیں بلکہ ذہنی پختگی، معاشی استحکام اور صحت بھی شادی کے لیے اہم ترین عوامل ہیں جنہیں برقرار رکھنے کے لیے حکومت قوانین وضع کر سکتی ہے۔ لیکن 2026 کا نیا چیلنج عدالت کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے ہی فیصلوں اور نئے صوبائی قوانین کی سزاؤں پر نظرثانی کرے۔
عام شہریوں اور نکاح رجسٹریشن کے لیے اس چیلنج کے کیا معنی ہیں؟
اگر آپ پاکستان میں شادی یا نکاح نامہ کی رجسٹریشن کروانے جا رہے ہیں، تو اس قانونی بحث کے دوران آپ کو درج ذیل باتوں کا لازمی علم ہونا چاہیے:
شناختی کارڈ (CNIC) کی شرط: پنجاب اور اسلام آباد میں نئے قوانین کے تحت نکاح رجسٹرار کے لیے لازمی ہے کہ وہ دلہا اور دلہن کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز یا ب فارم کے ذریعے تصدیق کرے کہ دونوں کی عمر 18 سال مکمل ہو چکی ہے۔
نکاح خوانوں کے لیے سخت سزائیں: موجودہ نافذ العمل قوانین کے مطابق، اگر کوئی نکاح رجسٹرار 18 سال سے کم عمر فرد کا نکاح پڑھاتا ہے تو اس کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے اور اسے بھاری جرمانے و قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
عدالتی حکم کا انتظار: جب تک وفاقی شرعی عدالت ان حالیہ پٹیشنز پر کوئی حکمِ امتناع (Stay Order) یا حتمی فیصلہ جاری نہیں کرتی، تب تک ملک بھر میں 18 سال کی عمر کی حد والے موجودہ ریاستی قوانین ہی نافذ العمل رہیں گے اور ان کی خلاف ورزی جرم تصور ہوگی۔
ریاست پاکستان بین الاقوامی معاہدوں (جیسے CRC اور CEDAW) کے تحت بچوں کے حقوق کے تحفظ اور کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے جبکہ مذہبی حلقے روایتی تشریحات پر اصرار کر رہے ہیں۔ شرعی عدالت کا آنے والا فیصلہ پاکستان میں فیملی لا کی مستقبل کی سمت طے کرے گا۔






