پاکستان میں قومی بچت (National Savings) کے سرمایہ کاروں، خاص طور پر بیواؤں اور سینئر سٹیزنز کے لیے بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ (Behbood Savings Certificates) اور ماہانہ آمدنی سکیمیں ہمیشہ سے ایک قابل اعتماد ذریعہ آمدن رہی ہیں۔ تاہم ملکی معیشت اور شرح سود (Policy Rate) میں اتار چڑھاؤ کے باعث جب ان سکیموں کے پرافٹ ریٹس میں کمی آتی ہے تو فکسڈ انکم پر انحصار کرنے والے افراد کے لیے اپنے ماہانہ اخراجات کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر آپ بھی ریٹس میں کمی کے بعد اپنے پیسے کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقل منافع کمانا چاہتے ہیں تو مارکیٹ میں کئی ایسے متبادل موجود ہیں جہاں سرمایہ کاری کر کے آپ مہنگائی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو پاکستان میں رقم بچانے کے محفوظ طریقے اور 4 بہترین آپشنز کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے۔
1۔ منی مارکیٹ اور فکسڈ انکم میوچل فنڈز (Money Market Mutual Funds)
جب روایتی بچت سکیموں کے ریٹس کم ہو رہے ہوں، تو اثاثہ جات کا انتظام کرنے والی کمپنیاں (Asset Management Companies) ایک بہترین متبادل ثابت ہوتی ہیں۔
یہ کیا ہیں؟ میوچل فنڈز مختلف سرمایہ کاروں سے رقم جمع کر کے اسے محفوظ سرکاری دستاویزات (T-Bills) اور بینکوں کے ٹرم ڈیپازٹس میں لگاتے ہیں۔
تحفظ اور نفع: منی مارکیٹ فنڈز (جیسے کہ Al Meezan Investments یا UBL Funds) کو سب سے کم رسک والا آپشن مانا جاتا ہے۔ ان میں آپ کو روزانہ یا ماہانہ بنیادوں پر منافع ملتا ہے اور ضرورت پڑنے پر آپ 2 سے 3 دنوں میں اپنی رقم واپس بھی نکال سکتے ہیں۔
مثالی کیوں ہے؟ یہ فنڈز آپ کے پیسے کو لاک نہیں کرتے، یعنی آپ جب چاہیں رقم نکلوا سکتے ہیں اور ریٹس بھی مارکیٹ کے مطابق مسابقتی ہوتے ہیں۔
2۔ کمرشل بینکوں کے اسلامی ماہانہ منافع اکاؤنٹس
پاکستان کے شیڈولڈ کمرشل بینک بہبود سکیموں کے مقابلے میں زیادہ لچکدار شرائط پر ماہانہ منافع کے اکاؤنٹس پیش کرتے ہیں۔
محفوظ سرمایہ کاری: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تحت تمام شیڈولڈ بینکوں میں ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کے ذریعے سرمایہ کاروں کی ایک مخصوص حد تک رقم قانونی طور پر محفوظ ہوتی ہے۔
بہترین برانڈز: بینک الفلاح، میزان بینک (Meezan Mahana Munafa Plan) اور بینک اسلامی (Islami Mahana Munafa Account) جیسے ادارے طویل اور قلیل مدتی سرمایہ کاری پر پرکشش منافع فراہم کرتے ہیں۔
مدت کا انتخاب: آپ 1 سال سے لے کر 5 سال تک کی مدت کے لیے فکسڈ ڈیپازٹ کروا سکتے ہیں۔ اگر مستقبل میں شرح سود مزید گرنے کا خدشہ ہو، تو طویل مدت (مثلاً 3 یا 5 سال) کے لیے ریٹ لاک کرنا ایک عقلمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔
3۔ حکومتِ پاکستان کے اجارہ سُکوک اور ٹریژری بلز (GoP Ijarah Sukuk & T-Bills)
اگر آپ قومی بچت (National Savings) جیسا ہی 100 فیصد سرکاری تحفظ چاہتے ہیں، تو براہ راست حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کریں۔
حکومتی ضمانت: ٹریژری بلز (T-Bills) اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) براہ راست حکومتِ پاکستان جاری کرتی ہے، اس لیے ان میں ڈوبنے کا خطرہ صفر ہوتا ہے۔
اسلامی متبادل: جو لوگ سود سے پاک منافع چاہتے ہیں، ان کے لیے حکومت "اجارہ سُکوک” (Ijarah Sukuk) جاری کرتی ہے۔ اب یہ سُکوک پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے ذریعے عام شہریوں کے لیے انتہائی کم رقم سے بھی خریدنا ممکن ہو چکے ہیں۔
بچت کا فائدہ: ان پر ملنے والا منافع اکثر عام بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹس سے بہتر ہوتا ہے اور ان کی خرید و فروخت انتہائی شفاف طریقے سے ہوتی ہے۔
4۔ مائیکرو فائنانس بینکوں کے ٹرم ڈیپازٹ سرٹیفکیٹس
چھوٹے یا مائیکرو فائنانس بینک اکثر بڑے کمرشل بینکوں کے مقابلے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے زیادہ پرافٹ ریٹ پیش کرتے ہیں۔
شرحِ منافع: مائیکرو فائنانس بینک (جیسے کہ موبلینک مائیکرو فائنانس بینک یا ٹیلی نار بینک) کے ماہانہ آمدنی اکاؤنٹس روایتی سرٹیفکیٹس کے گرتے ہوئے ریٹس کا ایک اچھا متبادل ہو سکتے ہیں۔
ریگولیٹری تحفظ: یہ بینک بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے لائسنس یافتہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پبلک کا پیسہ یہاں محفوظ رہتا ہے۔ تاہم، بڑے کمرشل بینکوں کے مقابلے میں یہاں خطرہ معمولی سا زیادہ ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ مستحکم درجہ بندی (High Credit Rating) والے مائیکرو فائنانس بینک کا انتخاب کریں۔
سرمایہ کاری کی تقسیم کیوں ضروری ہے؟
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ "اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں”۔ بہبود یا ماہانہ آمدنی سکیموں کے ریٹس کم ہونے پر اپنی تمام رقم کسی ایک جگہ منتقل کرنے کے بجائے اسے اوپر بیان کیے گئے مختلف آپشنز میں تقسیم کر دیں۔ مثال کے طور پر، 50% رقم میوچل فنڈز میں رکھیں تاکہ ضرورت پر نکالی جا سکے، اور باقی 50% رقم کو کسی اچھے اسلامی بینک کے فکسڈ اکاؤنٹ میں لاک کر دیں تاکہ منافع مستقل ملتا رہے۔






