پاکستان کے عدالتی نظام میں دیوانی مقدمات (Civil Cases) کی طویل المدت سماعتیں اور پیچیدہ طریقہ کار ہمیشہ سے سائلین اور قانونی ماہرین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ زمین و جائیداد کے تنازعات، معاہدوں کی خلاف ورزی اور وراثت جیسے دیوانی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک جدید اور تیز رفتار نظام کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔
اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 45 سال پرانے قوانین کو تبدیل کر دیا ہے اور نئے رولز کا نفاذ کیا ہے۔ یہ نئی اصلاحات نہ صرف دیوانی مقدمات کے طریقہ کار کو آسان بناتی ہیں بلکہ عدالتی وقت کی بچت اور شفافیت کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ اگر آپ پاکستان میں کوئی دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کے نئے رولز کے تحت سول کیس فائل کرنا اور اس کے تمام تکنیکی مراحل کو سمجھنا آپ کے لیے قانونی طور پر لازمی ہے۔
سپریم کورٹ کے نئے رولز کا بنیادی مقصد اور اہم تبدیلیاں
عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی فل کورٹ کمیٹی نے پرانے قوانین کی جگہ نئے رولز کی منظوری دی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کی جاری کردہ رپورٹس کے مطابق ان نئے قوانین کا مقصد پرانے فرسودہ ضوابط کو ختم کرنا اور عدالتی طریقہ کار کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔
نئے رولز کی متعارف کردہ سب سے بڑی تبدیلیوں میں مقدمات کی دستاویزات (Pleadings) میں یکسانیت لانا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال اور غیر ضروری التوا (Adjournments) کا خاتمہ شامل ہے۔ اب عدالتیں کسی بھی ایسے دعوے کو ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر سکتی ہیں جو ان مقررہ رولز اور فارمیٹس کے مطابق تیار نہ کیا گیا ہو۔
نئے رولز کے تحت سول اپیل دائر کرنے کی نئی مدت
پرانے قوانین کے تحت سپریم کورٹ میں دیوانی اپیل دائر کرنے کے لیے وقت کی حد بہت کم ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے اکثر سائلین مقررہ وقت گزر جانے کے باعث انصاف سے محروم رہ جاتے تھے۔ اب نئے رولز کے تحت اس میں نمایاں ریلیف دیا گیا ہے:
براہ راست سول اپیل (Direct Civil Appeals): سپریم کورٹ میں براہ راست دیوانی اپیل دائر کرنے کی مدت کو 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دیا گیا ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات: اگر رجسٹرار آفس آپ کی پٹیشن پر کوئی اعتراض لگاتا ہے، تو اس اعتراض کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
نظرثانی کی درخواست (Review Petition): سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت ہوگی۔ اگر نظرثانی کی درخواست کسی نئے ثبوت کی بنیاد پر ہے تو اس کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات اور بیانِ حلفی (Affidavit) نتھی کرنا لازمی ہے۔
ڈیجیٹل فائلنگ اور ای-کورٹ
جدید ترین ترامیم کے تحت اب کاغذات کے روایتی انبار کو ختم کر کے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف قدم بڑھایا گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے نئے رولز کے تحت سول کیس فائل کرنا مکمل طور پر ایک جدید تجربہ بن چکا ہے:
لازمی ای-فائلنگ (Electronic Filing): تمام پٹیشنز، دعوے اور متعلقہ دستاویزات کو الیکٹرانک طریقے سے اسکین شدہ کاپیوں کی صورت میں جمع کرانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل سمن اور نوٹسز: عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹسز اور سمن اب ڈیجیٹل ذرائع (ای میل، ایس ایم ایس اور مخصوص ایپس) کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔ ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے روایتی نوٹسز پر انحصار کم کر دیا گیا ہے۔
ویڈیو لنک سماعت (Video-Link Hearings): سائلین اور وکلاء کی سہولت کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دی گئی ہے۔ ویڈیو لنک کی درخواست سماعت والے دن صبح 9:00 بجے سے پہلے جمع کرانا ضروری ہے۔
دیوانی مقدمات کی دستاویزات کے لیے اہم ہدایات
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹس کے لیے بھی دیوانی مقدمات کی تیاری کے حوالے سے سخت گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کے مطابق مدعی (Plaintiff) اور مدعا علیہ (Defendant) دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانونی طور پر مستند دستاویزات پیش کریں۔
جوابِ دعویٰ کی مدت: سمن موصول ہونے کے بعد مدعا علیہ کو عام طور پر 30 دنوں کے اندر اپنا تحریری جواب (Written Statement) عدالت میں جمع کرانا ہوگا اور اس مدت میں غیر ضروری توسیع نہیں دی جائے گی۔
شواہد کی فہرست: تحریری جواب کے ساتھ ان تمام دستاویزات کی فہرست فراہم کرنا لازمی ہے جو آپ کے قبضے میں ہیں یا جن پر آپ اپنے دفاع کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔
فیسولس پٹیشنز پر جرمانہ: عدالت کا وقت ضائع کرنے والی یا جھوٹی درخواستیں دائر کرنے پر اب 25,000 روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
| مقدمے کا مرحلہ | پرانی قانونی مدت | نئے رولز کے تحت مقررہ مدت |
| براہ راست سول اپیل | 30 دن | 60 دن |
| نظرثانی کی درخواست (Review) | 30 دن | 30 دن (بشمول تصدیق شدہ دستاویزات) |
| رجسٹرار اعتراض کے خلاف اپیل | — | 14 دن |
| جوابِ دعویٰ جمع کرانا | لچکدار | 30 دن (عام حالات میں) |
وکلاء کے لیے رجسٹریشن اور ڈریس کوڈ کے نئے ضوابط
نئے رولز نے جہاں سائلین کو ریلیف دیا ہے وہاں بار کونسلز اور وکلاء کے لیے بھی طریقہ کار کو آسان بنایا ہے:
ایڈوکیٹ آن ریکارڈ (AOR): ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر رجسٹریشن کے لیے پہلے سے رائج تحریری امتحان کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب 5 سال کا تجربہ رکھنے والے وکلاء براہ راست درخواست دے سکتے ہیں۔ڈریس کوڈ (Dress Code): عدالت میں پیشی کے دوران گاؤن (Gowns) پہننے کی لازمی شرط اب اختیاری کر دی گئی ہے۔ وکلاء اب کالی شیروانی یا شارٹ بلیک کوٹ پہن کر عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔
مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu khabar وزٹ کریں۔






