اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر
  • آج سونے کی قیمت

سپریم کورٹ کے نئے رولز کے تحت سول کیس فائل کرنا: پاکستانی سائلین اور وکلاء کے لیے مکمل گائیڈ

ذیشان خان by ذیشان خان
مئی 28, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, پاکستان قومی خبریں – ملکی سطح کی اہم اور تازہ ترین رپورٹس, پاکستان کی سیاسی خبریں – حکومت، اپوزیشن اور انتخابی اپ ڈیٹس, علاقائی اور صوبائی خبریں – پنجاب، سندھ، KPK اور بلوچستان
سپریم کورٹ کے نئے رولز

پاکستان کے عدالتی نظام میں دیوانی مقدمات (Civil Cases) کی طویل المدت سماعتیں اور پیچیدہ طریقہ کار ہمیشہ سے سائلین اور قانونی ماہرین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ زمین و جائیداد کے تنازعات، معاہدوں کی خلاف ورزی اور وراثت جیسے دیوانی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک جدید اور تیز رفتار نظام کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔

اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے 45 سال پرانے قوانین کو تبدیل کر دیا ہے اور نئے رولز کا نفاذ کیا ہے۔ یہ نئی اصلاحات نہ صرف دیوانی مقدمات کے طریقہ کار کو آسان بناتی ہیں بلکہ عدالتی وقت کی بچت اور شفافیت کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ اگر آپ پاکستان میں کوئی دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کے نئے رولز کے تحت سول کیس فائل کرنا اور اس کے تمام تکنیکی مراحل کو سمجھنا آپ کے لیے قانونی طور پر لازمی ہے۔

سپریم کورٹ کے نئے رولز کا بنیادی مقصد اور اہم تبدیلیاں

عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی فل کورٹ کمیٹی نے پرانے قوانین کی جگہ نئے رولز کی منظوری دی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کی جاری کردہ رپورٹس کے مطابق ان نئے قوانین کا مقصد پرانے فرسودہ ضوابط کو ختم کرنا اور عدالتی طریقہ کار کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔

نئے رولز کی متعارف کردہ سب سے بڑی تبدیلیوں میں مقدمات کی دستاویزات (Pleadings) میں یکسانیت لانا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال اور غیر ضروری التوا (Adjournments) کا خاتمہ شامل ہے۔ اب عدالتیں کسی بھی ایسے دعوے کو ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر سکتی ہیں جو ان مقررہ رولز اور فارمیٹس کے مطابق تیار نہ کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر مملکت نے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور پشاور سپریم کورٹ جج تقرری کی منظوری دے دی

نئے رولز کے تحت سول اپیل دائر کرنے کی نئی مدت 

پرانے قوانین کے تحت سپریم کورٹ میں دیوانی اپیل دائر کرنے کے لیے وقت کی حد بہت کم ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے اکثر سائلین مقررہ وقت گزر جانے کے باعث انصاف سے محروم رہ جاتے تھے۔ اب نئے رولز کے تحت اس میں نمایاں ریلیف دیا گیا ہے:

براہ راست سول اپیل (Direct Civil Appeals): سپریم کورٹ میں براہ راست دیوانی اپیل دائر کرنے کی مدت کو 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دیا گیا ہے۔

رجسٹرار آفس کے اعتراضات: اگر رجسٹرار آفس آپ کی پٹیشن پر کوئی اعتراض لگاتا ہے، تو اس اعتراض کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

نظرثانی کی درخواست (Review Petition): سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت ہوگی۔ اگر نظرثانی کی درخواست کسی نئے ثبوت کی بنیاد پر ہے تو اس کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات اور بیانِ حلفی (Affidavit) نتھی کرنا لازمی ہے۔

ڈیجیٹل فائلنگ اور ای-کورٹ 

جدید ترین ترامیم کے تحت اب کاغذات کے روایتی انبار کو ختم کر کے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف قدم بڑھایا گیا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے نئے رولز کے تحت سول کیس فائل کرنا مکمل طور پر ایک جدید تجربہ بن چکا ہے:

لازمی ای-فائلنگ (Electronic Filing): تمام پٹیشنز، دعوے اور متعلقہ دستاویزات کو الیکٹرانک طریقے سے اسکین شدہ کاپیوں کی صورت میں جمع کرانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مریم نواز نے پنجاب میں سڑکوں کی بحالی کے منصوبے کا آغاز کر دیا۔

ڈیجیٹل سمن اور نوٹسز: عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹسز اور سمن اب ڈیجیٹل ذرائع (ای میل، ایس ایم ایس اور مخصوص ایپس) کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔ ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے روایتی نوٹسز پر انحصار کم کر دیا گیا ہے۔

ویڈیو لنک سماعت (Video-Link Hearings): سائلین اور وکلاء کی سہولت کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دی گئی ہے۔ ویڈیو لنک کی درخواست سماعت والے دن صبح 9:00 بجے سے پہلے جمع کرانا ضروری ہے۔

دیوانی مقدمات کی دستاویزات کے لیے اہم ہدایات

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹس کے لیے بھی دیوانی مقدمات کی تیاری کے حوالے سے سخت گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کے مطابق مدعی (Plaintiff) اور مدعا علیہ (Defendant) دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانونی طور پر مستند دستاویزات پیش کریں۔

جوابِ دعویٰ کی مدت: سمن موصول ہونے کے بعد مدعا علیہ کو عام طور پر 30 دنوں کے اندر اپنا تحریری جواب (Written Statement) عدالت میں جمع کرانا ہوگا اور اس مدت میں غیر ضروری توسیع نہیں دی جائے گی۔

شواہد کی فہرست: تحریری جواب کے ساتھ ان تمام دستاویزات کی فہرست فراہم کرنا لازمی ہے جو آپ کے قبضے میں ہیں یا جن پر آپ اپنے دفاع کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔

فیسولس پٹیشنز پر جرمانہ: عدالت کا وقت ضائع کرنے والی یا جھوٹی درخواستیں دائر کرنے پر اب 25,000 روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

مقدمے کا مرحلہپرانی قانونی مدتنئے رولز کے تحت مقررہ مدت
براہ راست سول اپیل30 دن60 دن
نظرثانی کی درخواست (Review)30 دن30 دن (بشمول تصدیق شدہ دستاویزات)
رجسٹرار اعتراض کے خلاف اپیل—14 دن
جوابِ دعویٰ جمع کرانالچکدار30 دن (عام حالات میں)

وکلاء کے لیے رجسٹریشن اور ڈریس کوڈ کے نئے ضوابط

نئے رولز نے جہاں سائلین کو ریلیف دیا ہے وہاں بار کونسلز اور وکلاء کے لیے بھی طریقہ کار کو آسان بنایا ہے:

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں سونے کا ریٹ : 29 ستمبر 2025

ایڈوکیٹ آن ریکارڈ (AOR): ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر رجسٹریشن کے لیے پہلے سے رائج تحریری امتحان کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب 5 سال کا تجربہ رکھنے والے وکلاء براہ راست درخواست دے سکتے ہیں۔ڈریس کوڈ (Dress Code): عدالت میں پیشی کے دوران گاؤن (Gowns) پہننے کی لازمی شرط اب اختیاری کر دی گئی ہے۔ وکلاء اب کالی شیروانی یا شارٹ بلیک کوٹ پہن کر عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu khabar وزٹ کریں۔

ذیشان خان

ذیشان خان

ذیشان خان ایک کرائم اور قانون سے متعلق رپورٹر ہیں جو نظامِ انصاف اور پولیس اصلاحات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں عدالتی نظام کی بہتری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، اور عوامی انصاف کے موضوعات پر روشنی ڈالتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

ریموٹ یو ایس بینک اکاؤنٹ

ریموٹ یو ایس بینک اکاؤنٹ: پاکستان سے کھولنے کے 3 طریقے

جون 19, 2026
پاک آرمی میں بھرتی

پاک آرمی میں بھرتی: وہاڑی اور میلسی مہم کی مکمل تفصیلات

جون 18, 2026
فری لانسنگ بینک اکاؤنٹ

فری لانسنگ بینک اکاؤنٹ: پاکستان کے 4 بہترین بینک اکاؤنٹس

جون 18, 2026
سستے اور بہترین سن بلاک

سستے اور بہترین سن بلاک: پاکستان میں Rs. 1500 سے کم 3 ٹاپ نام

جون 18, 2026
پاکستان میں 5G سروسز

پاکستان میں 5G سروسز: شہروں اور علاقوں کی مکمل لسٹ 2026

جون 18, 2026
لاہور الیکٹرک ٹرام پروجیکٹ

لاہور الیکٹرک ٹرام پروجیکٹ: روٹس اور کرایوں کی مکمل تفصیل

جون 18, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

ریموٹ یو ایس بینک اکاؤنٹ

ریموٹ یو ایس بینک اکاؤنٹ: پاکستان سے کھولنے کے 3 طریقے

جون 19, 2026
پاک آرمی میں بھرتی

پاک آرمی میں بھرتی: وہاڑی اور میلسی مہم کی مکمل تفصیلات

جون 18, 2026
فری لانسنگ بینک اکاؤنٹ

فری لانسنگ بینک اکاؤنٹ: پاکستان کے 4 بہترین بینک اکاؤنٹس

جون 18, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.

ہم کوکیز استعمال کرتے ہیں تاکہ ہم آپ کو ہماری ویب سائٹ پر بہترین تجربہ فراہم کریں۔ اگر آپ اس سائٹ کا استعمال جاری رکھتے ہیں تو ہم اس بات کو قبول کریں گے کہ آپ اس سے خوش ہیں۔