پاکستان میں امتحانی نظام کو شفاف بنانے اور نقل کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے ایک اور بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ میٹرک کے امتحانات میں سالہا سال سے جاری جعلی اور بازار سے خریدی گئی پریکٹیکل کاپیوں کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے میٹرک پریکٹیکل امتحانی قوانین کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اب پریکٹیکل امتحانات میں صرف ان طلبہ کو نمبر دیے جائیں گے جنہوں نے اپنی کاپیاں خود اپنے ہاتھ سے لکھی ہوں گی۔
ٹاسک فورس برائے امتحانات کے چیئرمین مزمل محمود نے اس حوالے سے تمام تعلیمی بورڈز کو ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ امتحانی نظام کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔
جعلی اور بازاری پریکٹیکل کاپیوں پر مکمل پابندی
بورڈ امتحانات کے دوران اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ طلبہ بازار سے پہلے سے لکھی لکھائی (Pre-written) پریکٹیکل ریکارڈ بکس خرید لیتے ہیں یا کسی دوسرے شخص سے اپنی کاپیاں تیار کرواتے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت اس عمل کو سلیبس اور بورڈ قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ہینڈ رائٹنگ (Handwriting) کی لازمی تصدیق
نئی گائیڈ لائنز کے مطابق امتحانی مرکز پر موجود ممتحن (Examiner) پریکٹیکل کاپی چیک کرتے وقت اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ کاپی میں موجود لکھائی کا موازنہ طالب علم کی اصل ہینڈ رائٹنگ سے کرے۔ اگر لکھائی میں فرق پایا گیا تو طالب علم کو پریکٹیکل کے نمبر نہیں دیے جائیں گے اور اسے فوری طور پر فیل تصور کیا جائے گا۔
پاکستان بھر کے تعلیمی بورڈز کے قوانین اور الحاق کی تفصیلات جاننے کے لیے آپ انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (IBCC) کی آفیشل ویب سائٹ کا دورہ کر سکتے ہیں۔
استعمال شدہ پریکٹیکل کاپیاں پھاڑنے کا حکم
ایک اور اہم لوپ ہول (Loophole) کو بند کرنے کے لیے، جس کے تحت ایک ہی پریکٹیکل کاپی اگلے سال دوسرا طالب علم استعمال کر لیتا تھا، چیئرمین ٹاسک فورس نے ایک انوکھا اور سخت فیصلہ کیا ہے:
کاپیاں تلف کرنا: جیسے ہی ممتحن کسی طالب علم کی پریکٹیکل نوٹ بک کو چیک کر کے نمبر فائنل کرے گا اس نوٹ بک یا کاپی کو فوری طور پر وہیں پھاڑ (Tear) دیا جائے گا۔
دوبارہ استعمال پر پابندی: اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ریکارڈ بک امتحانی مرکز سے باہر جا کر کسی دوسرے طالب علم کے ہاتھ نہ لگے اور نہ ہی اسے اگلے امتحانی سیشن میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔
شعبہ تعلیم میں ہونے والی ان اصلاحات اور امتحانی سیکیورٹی کے حوالے سے مزید حکومتی اعلانات آپ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے پورٹل پر دیکھ سکتے ہیں۔
غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
ٹاسک فورس برائے امتحانات نے واضح کیا ہے کہ یہ قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ اگر کسی امتحانی مرکز پر ممتحن یا بورڈ کے عملے نے ان احکامات کی تعمیل میں سستی دکھائی یا جعلی کاپیوں کو پاس کیا، تو ان کے خلاف سخت سیکیورٹی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد میٹرک کے امتحانات کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر بحال کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں او اور اے لیول کے امتحانی پرچے لیک ہونے جیسے اسکینڈلز سامنے آ رہے ہیں۔
اس امتحانی فیصلے اور تعلیمی اصلاحات کی میڈیا کوریج دیکھنے کے لیے آپ پروپاکستانی کی تفصیلی رپورٹ کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔
طلبہ کے لیے اہم نصیحت
میٹرک کے تمام طلبہ کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بازار سے بنی بنائی پریکٹیکل بکس خریدنے پر پیسے ضائع نہ کریں۔ امتحانات شروع ہونے سے پہلے اپنی تمام لیب ریڈنگز اور ڈائیگرامز اپنے ہاتھ سے مکمل کریں تاکہ امتحانی مرکز پر ہینڈ رائٹنگ کی ویریفکیشن کے وقت کسی بھی قسم کی پریشانی یا فیل ہونے سے بچا جا سکے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






