پاکستان میں سستی گیس استعمال کرنے والے کروڑوں متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے ساتھ کیے گئے حالیہ معاشی معاہدے کے تحت پروٹیکٹڈ گیس صارفین الرٹ جاری کرتے ہوئے 140 ارب روپے کی گیس کراس سبسڈی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا حتمی عزم ظاہر کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں گیس کی قیمتوں کا پورا ڈھانچہ تبدیل ہو جائے گا جس کا براہ راست اثر گھریلو بجٹ پر پڑے گا۔
اس مضمون میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ اس فیصلے کے بعد پروٹیکٹڈ صارفین کو اب کتنا بل ادا کرنا ہوگا اور اس نئے قانون کا اطلاق کس تاریخ سے ہونے جا رہا ہے۔
گیس کراس سبسڈی کیا ہے اور اسے کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟
موجودہ نظام کے مطابق حکومت پاکستان اپنے طور پر بجٹ سے پروٹیکٹڈ (کم گیس استعمال کرنے والے) صارفین کو کوئی براہ راست فنڈز فراہم نہیں کرتی تھی۔ بلکہ اس کے برعکس کمرشل صارفین، سی این جی اسٹیشنز، سیمنٹ فیکٹریوں اور برآمدی صنعتوں (Captive Power Plants) پر زیادہ ٹیکس اور بھاری ٹیرف عائد کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم سے غریب گھریلو صارفین کو سستی گیس فراہم کی جاتی تھی جسے "کراس سبسڈی” کہا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ ہونے والے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے تحت اب اس سسٹم کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں قیمتوں کے بگاڑ اور گردشی قرضے (Circular Debt) کو قابو میں لایا جا سکے
حکومتی حکام اور پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق کراس سبسڈی کا یہ نظام ختم ہونے کے بعد ملک بھر کے تمام صارفین کے لیے گیس کا ریٹ برابر کر دیا جائے گا۔
موجودہ اوسط ٹیرف: اس وقت ملک میں گیس کا اوسط ٹیرف 1,750 روپے فی MMBtu ہے۔
نیا بلنگ نظام: سبسڈی ختم ہونے کے بعد تمام پروٹیکٹڈ اور نان-پروٹیکٹڈ صارفین کو سلیب سسٹم (Slab Rates) کے بجائے اسی فلیٹ ریٹ یعنی 1,750 روپے فی MMBtu کے حساب سے بل ادا کرنا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غریب صارفین جو اب تک چند سو روپے ماہانہ بل دیتے تھے ان کے ماہانہ گیس کے بلوں میں کئی گنا نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
اس فیصلے کا اطلاق کب سے ہوگا؟ (ٹائم لائن)
حکومتِ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو جمع کرائی گئی یقین دہانی کی دستاویزات کے مطابق، اس نئے ٹیرف ڈھانچے کی منتقلی کے عمل کو مراحل وار مکمل کیا جائے گا۔
حتمی تاریخ: حکومت نے اس پورے ریفارم پروگرام اور 140 ارب روپے کی سبسڈی کے خاتمے کو جنوری 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے ابتدائی نوٹیفیکیشن اور فکسڈ چارجز میں تبدیلیاں وفاقی وزارتِ توانائی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے ذریعے آنے والے بجٹ سیشنز میں ہی شروع کر دی جائیں گی۔
مستحق خاندانوں کے لیے متبادل ریلیف پروگرام
گیس کی قیمتوں میں اس بڑے اضافے سے غریب عوام کو بچانے کے لیے حکومت نے ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب گیس کے بل میں رعایت دینے کے بجائے مستحق افراد کو کیش منتقل کیا جائے گا:
صارفین کی آمدنی کی جانچ: اب ریلیف کا معیار گیس کا کم استعمال نہیں ہوگا، بلکہ خاندان کی اصل آمدنی ہوگی۔BISP سے لنک: حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا بیس کو استعمال کرے گی۔ جو خاندان بی آئی ایس پی کے تحت رجسٹرڈ ہوں گے انہیں حکومت کی طرف سے براہ راست مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ گیس کے مہنگے بلوں کا بوجھ برداشت کر سکیں
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






