مئی 2026 میں بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں موجود ایک لگژری کروز شپ MV Hondius سے شروع ہونے والی ہنتا وائرس کی خبروں نے پوری دنیا بشمول سمندر پار پاکستانیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اوراگلی عالمی وبا کے خوف کے درمیان سچائی کیا ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم اس وائرس کی حقیقت حالیہ آؤٹ بریک اور پاکستانیوں کے لیے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
ہنتا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟
ہنتا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں ہے بلکہ یہ دہائیوں سے موجود وائرسز کا ایک خاندان ہے جو عام طور پر چوہوں (Rodents) کے ذریعے پھیلتا ہے۔ انسانوں میں یہ انفیکشن اس وقت منتقل ہوتا ہے جب وہ چوہوں کے فضلے، پیشاب یا تھوک سے آلودہ دھول میں سانس لیتے ہیں۔
حالیہ کروز شپ آؤٹ بریک میں اینڈیز وائرس (Andes virus) نامی تناؤ (Strain) پایا گیا ہے جو لاطینی امریکہ میں عام ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ وائرس بہت ہی قریبی تعلق کی صورت میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کروز شپ ‘MV Hondius’ کا واقعہ اور موجودہ صورتحال
خبروں کے مطابق ارجنٹائن سے روانہ ہونے والے اس جہاز پر ہنتا وائرس کے 8 مشتبہ کیسز سامنے آئے جن میں سے 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) نے اس صورتحال کو مانیٹر کرنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ قومی صحت (MoNHSRC) اور بارڈر ہیلتھ سروسز نے بین الاقوامی مسافروں کی اسکریننگ اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
کیا یہ وائرس کوویڈ 19 جیسی وبا بن سکتا ہے؟
طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہنتا وائرس کے عالمی وبا بننے کے امکانات انتہائی کم ہیں کیونکہ یہ ہوا کے ذریعے کورونا کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا۔ اس کا پھیلاؤ صرف انتہائی قریبی اور طویل رابطے تک محدود رہتا ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے احتیاطی تدابیر
اگر آپ بیرونِ ملک مقیم ہیں یا کروز شپ پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
صفائی کا خاص خیال: ایسی جگہوں سے دور رہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو۔
علامات پر نظر: اگر آپ کو تیز بخار، سر درد، پٹھوں میں درد یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوری طبی معائنہ کروائیں۔
سرکاری ذرائع سے تصدیق: افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے وزارتِ قومی صحت پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود ایڈوائزری چیک کریں۔
ہنتا وائرس بلاشبہ ایک سنگین بیماری ہے جس میں اموات کی شرح 30 سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے لیکن بروقت آگاہی اور احتیاط سے اس کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
مزید تازہ الرٹس اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






