آج یکم مئی 2026 ہے اور پاکستان میں آم کی برآمد پر پابندی 2026 کے باعث پھلوں کے بادشاہ کی آمد کا ہر کوئی بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔ تاہم اس سال آم کے شوقین افراد کو تھوڑا مزید انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ وزارتِ تجارت نے 2026 کے سیزن کے لیے آم کی برآمد (export) کے آغاز کی تاریخ تبدیل کر کے یکم جون 2026 مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر حیران کن لگتا ہے مگر یہ پاکستان کی سب سے قیمتی زرعی پیداوار کے ذائقے اور بین الاقوامی ساکھ کو بچانے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔
پاکستان میں آم کی برآمد پر پابندی 2026 کا بنیادی محرک موسمیاتی تبدیلی (climate change) کے فصل پر اثرات ہیں۔ طویل سردی اور بدلتے ہوئے موسمی پیٹرن کی وجہ سے خاص طور پر صوبہ سندھ کے ‘سندھڑی’ آم کے قدرتی طور پر پکنے کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے۔
ذائقے کی سائنس: تاخیر کی وجہ کیا ہے؟
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کو اپنی مخصوص مٹھاس اور خوشبو حاصل کرنے کے لیے تپش کے ایک خاص درجے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پہلے کٹائی کے نقصانات: اگر پھل مکمل طور پر پکنے سے پہلے توڑ لیا جائے تو یہ ذائقے میں کھٹا اور ریشے دار ہوتا ہے۔
معیار کی ضمانت: برآمد کی تاریخ کو 10 مئی سے بڑھا کر یکم جون کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک صرف بہترین معیار کا قدرتی پکا ہوا پھل پہنچے۔
پاکستان کی عالمی ساکھ کا تحفظ
یہ فیصلہ ‘پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن‘ (PFVA) کی جانب سے کی گئی ہنگامی درخواستوں کے بعد لیا گیا ہے۔ برآمد کنندگان نے خبردار کیا تھا کہ کچا پھل عالمی منڈی میں بھیجنے سے نہ صرف قیمتیں کم ملیں گی بلکہ برانڈ پاکستان کے امیج کو بھی نقصان پہنچے گا۔
تبدیلی کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
| وجہ | اہمیت |
| فائٹو سینیٹری تعمیل | پھلوں کی مکھی (fruit fly) جیسے کیڑوں سے پاک ہونا تاکہ یورپی یونین کے سخت معیارات پر پورا اترا جا سکے۔ |
| مارکیٹ میں مقابلہ | بھارت جیسے حریف ممالک سے مقابلہ کرنے کے لیے معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ |
| شیلف لائف | پکے ہوئے آم بحری جہازوں کے ذریعے طویل سفر کے دوران بہتر حالت میں رہتے ہیں۔ |
مقامی صارفین کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
مقامی صارفین کے لیے یہ پابندی ایک خوشخبری بھی ہے۔ اگرچہ آپ کو مئی کے اوائل میں سندھڑی یا چونسہ دستیاب نہیں ہوگا مگر جب یہ آئے گا تو اس کا معیار لاجواب ہوگا۔
حکومت نے آم کو مصنوعی طریقے سے پکانے کے لیے کیلشیم کاربائیڈ کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی صحت کی خاطر قدرتی جون کی فصل کا انتظار کریں اور زہریلے کیمیکلز سے پکے ہوئے پھلوں سے پرہیز کریں۔
مستقبل کی توقعات: کیا یہ بمپر سیزن ہوگا؟
تاخیر کے باوجود، 2026 کے لیے پیداواری تخمینے بہت حوصلہ افزا ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سال آم کی پیداوار 2.5 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت ‘پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی’ (PHDEC) کے ساتھ مل کر کولڈ چین مینجمنٹ کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ یکم جون کو جب یہ انتظار ختم ہو، تو دنیا کو پاکستان کا بہترین ذائقہ مل سکے۔
تازہ خبریں اور اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






