لاہور میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لاہور جسے کبھی باغوں کا شہر کہا جاتا تھا اب اکثر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست رہتا ہے۔ اگرچہ اسموگ عام طور پر اکتوبر سے جنوری تک رہتی ہے لیکن حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گرد و غبار کی وجہ سے اپریل میں بھی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے اور لاہور میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
اپریل میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
عام طور پر موسم بہار میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں کم ہو جانی چاہئیں، لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
غیر متوقع آلودگی: پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ (EPD) کی رپورٹس کے مطابق ہوا کی رفتار میں کمی اور تعمیراتی کاموں کی وجہ سے اپریل میں بھی AQI لیول 200 سے تجاوز کر رہا ہے۔
درآمدی مسائل اور ٹیکس: پاکستان میں زیادہ تر ایئر پیوریفائرز درآمد (Import) کیے جاتے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اور الیکٹرانکس پر نئے ریگولیٹری ڈیوٹیز کی وجہ سے اسٹاک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
الرجی کا موسم: اپریل میں پولن (Pollen) اور گرد و غبار کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد گھروں میں پیوریفائر لگانے کو ترجیح دے رہی ہے۔
لاہور کی فضا کے لیے بہترین ایئر پیوریفائر برانڈز
اگر آپ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود اپنی صحت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تو مارکیٹ میں دستیاب درج ذیل برانڈز بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں:
Xiaomi (Mi Air Purifiers):
یہ برانڈ اپنی سمارٹ خصوصیات اور HEPA فلٹرز کی وجہ سے لاہور میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ یہ باریک ذرات (PM2.5) کو ختم کرنے میں انتہائی مؤثر ہے۔
Philips:
فلپس کے پیوریفائرز اپنی پائیداری اور سینسر ٹیکنالوجی کے لیے جانے جاتے ہیں جو ہوا کے معیار کے مطابق خود بخود اپنی رفتار تبدیل کر لیتے ہیں۔
Dyson:
اگر بجٹ کا مسئلہ نہیں ہے تو ڈائیسن کے پیوریفائرز بہترین فلٹریشن اور کولنگ فین کے ساتھ آتے ہیں جو اپریل کی گرمی میں دوہرا فائدہ دیتے ہیں۔
Samsung:
سام سنگ کے ماڈلز بڑے کمروں کے لیے بہترین ہیں اور ان کے فلٹرز کی عمر دیگر برانڈز کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
خریداری سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھیں
جب آپ لاہور میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں چیک کر رہے ہوں تو صرف قیمت نہ دیکھیں بلکہ درج ذیل تکنیکی نکات پر غور کریں:
HEPA فلٹر: یقینی بنائیں کہ پیوریفائر میں ٹرو ہیپا (True HEPA) فلٹر ہو جو 99.97% آلودگی صاف کر سکے۔
CADR ریٹنگ: یہ بتاتا ہے کہ پیوریفائر کتنی تیزی سے ہوا صاف کرتا ہے۔ بڑے کمرے کے لیے زیادہ CADR والا ماڈل لیں۔
شور کا لیول: بیڈ روم کے لیے ایسا پیوریفائر لیں جس کا ‘سلیپ موڈ’ پر شور بہت کم ہو۔
حکومتی اقدامات اور عوامی صحت
حکومتِ پنجاب نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے ‘گرین لاک ڈاؤن’ جیسے اقدامات کیے ہیں لیکن انفرادی سطح پر تحفظ بھی ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق گھروں کے اندر کی ہوا بیرونی ہوا سے زیادہ آلودہ ہو سکتی ہے اس لیے ایئر پیوریفائر اب تعیش نہیں بلکہ ضرورت بن چکے ہیں۔
اگرچہ لاہور میں ایئر پیوریفائر کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن اسموگ اور پولن کے اثرات سے بچنے کے لیے یہ ایک بہترین سرمایہ کاری ہے۔ خریداری سے پہلے مختلف آن لائن اسٹورز پر قیمتوں کا موازنہ ضرور کریں۔
مزید اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں۔






