پاکستان میں جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی قانون نافذ کرنے والے نظام کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA AI System) نے ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سسٹم متعارف کرایا ہے جسے مفرور ملزمان کو حقیقی وقت (real-time) میں ٹریک کرنے اور پہچاننے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس اہم پیش رفت کا مرکز ایجنسی کی انتہائی مطلوب ملزمان کی روایتی "ریڈ بک” (Red Book) کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کرنا ہے جس سے جرائم پیشہ افراد کے لیے اپنا حلیہ بدل کر گرفتاری سے بچنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اے آئی سے چلنے والی فیشل ری کنسٹرکشن (چہرے کی جدید ٹیکنالوجی)
اس نئے اقدام کی سب سے اہم خصوصیت جسمانی بھیس یا حلیہ بدلنے کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ سسٹم مشتبہ افراد کی پرانی تصاویر کی بنیاد پر ان کی تازہ ترین اور جدید شکل (ویژول پروفائلز) بنانے کے لیے انتہائی جدید اے آئی (AI) ٹولز کا استعمال کرتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب جرائم پیشہ افراد کو باآسانی پہچان سکتے ہیں چاہے انہوں نے اپنا حلیہ مکمل طور پر کیوں نہ بدل لیا ہو۔ اے آئی سسٹم ان افراد کو کامیابی سے ٹریک کر سکتا ہے جو درج ذیل طریقوں سے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں:
داڑھی بڑھا کر یا منڈوا کر۔
سر منڈوا کر یا ہیئر سٹائل (بالوں کا انداز) تبدیل کر کے۔
وقت کے ساتھ قدرتی طور پر عمر بڑھنے کی صورت میں۔
حکام پُر اعتماد ہیں کہ چہرے کو دوبارہ تشکیل دینے والی یہ ٹیکنالوجی مفرور ملزمان کے اس سب سے عام ہتھکنڈے کو مکمل طور پر ناکام بنا دے گی جسے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بارڈر سکیورٹی کو چکمہ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
FIA launches AI system in Pakistan to trace most wanted criminals with real-time facial updates, revamped digital red book and enhanced anti-trafficking tools.https://t.co/dHtt3n1Ymr pic.twitter.com/TF3CFZColV
— Gulf News (@gulf_news) April 5, 2026
ڈیجیٹل ‘ریڈ بک’ اور ملزمان کی پروفائلز
مینوئل (دستی) ریکارڈ سے ہٹ کر اب یہ جدید ڈیجیٹل ریڈ بک ایک مرکزی اور انتہائی تفصیلی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گی۔ یہ ایف آئی اے حکام کے لیے آن لائن مکمل طور پر دستیاب ہوگی جبکہ اس کا ایک مخصوص حصہ عوام کے لیے بھی جاری کیا جائے گا تاکہ ملزمان کی شناخت میں مدد مل سکے۔
صرف چہرے کی شناخت سے ہٹ کر یہ نئی ڈیجیٹل پروفائلز تفتیش کاروں کو مشتبہ شخص کی زندگی اور مجرمانہ تاریخ کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتی ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس محفوظ طریقے سے درج ذیل تفصیلات ریکارڈ کرتا ہے:
ذاتی معلومات: شناختی کارڈ (CNIC)، پاسپورٹ کی معلومات اور موبائل نمبر۔
نیٹ ورک: خاندان کے معلوم افراد اور جرائم میں ملوث ساتھی۔
شناخت: جسمانی خدوخال یا شناخت کی نمایاں علامات۔
مالیاتی تفصیلات: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات۔
قانونی حیثیت: درج شدہ ایف آئی آرز (FIRs) اور عدالتوں میں جاری مقدمات کی موجودہ صورتحال۔
ہیومن ٹریفکنگ (انسانی سمگلنگ) کے خلاف ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن
اگرچہ یہ سسٹم ہر قسم کے منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن یہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ٹریک کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔
ڈیجیٹل ریڈ بک خاص طور پر انسانی سمگلروں کے کام کرنے کے طریقہ کار (modus operandi) کو ریکارڈ کرتی ہے جس میں ان کے سمگلنگ کے پسندیدہ راستے اور آخری معلوم مقامات شامل ہیں۔
اس وقت، اس ڈیٹا بیس میں 143 مشتبہ انسانی سمگلروں کی فہرست موجود ہے جو ملک بھر میں ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹس کے درج مقدمات میں مطلوب ہیں۔ اس اے آئی (AI) پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایف آئی اے کا مقصد ان سمگلنگ نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنا اور طویل عرصے سے مفرور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔
(FAQs)
ایف آئی اے نے جرائم پیشہ افراد کو ٹریک کرنے کے لیے کون سا نیا سسٹم متعارف کرایا ہے؟
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے ایک جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سسٹم لانچ کیا ہے جسے مفرور ملزمان کے چہروں کی پروفائلز کو دوبارہ تشکیل دینے اور اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ ان کی فوری (real-time) شناخت ممکن ہو سکے۔
ایف آئی اے کا نیا اے آئی (AI) سسٹم حلیہ بدلنے والوں کے خلاف کیسے کام کرتا ہے؟
یہ ٹیکنالوجی پرانی تصاویر سے چہرے کی جدید پروفائلز بنانے کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کرتی ہے۔ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ افراد کی شناخت کرنے میں مدد ملتی ہے، چاہے انہوں نے عمر بڑھنے، داڑھی رکھنے، یا ہیئر سٹائل بدلنے سے اپنا حلیہ مکمل طور پر کیوں نہ بدل لیا ہو۔
ڈیجیٹل ریڈ بک کیا ہے؟
ڈیجیٹل ریڈ بک ایف آئی اے کی انتہائی مطلوب افراد کی روایتی فہرست کا جدید ترین ورژن ہے۔ یہ ایک تفصیلی آن لائن ڈیٹا بیس ہے جس میں مشتبہ افراد کی جامع پروفائلز موجود ہیں، جن میں ان کا شناختی کارڈ (CNIC) ڈیٹا، ساتھیوں کی معلومات، بینک کی تفصیلات، اور مجرمانہ تاریخ شامل ہیں۔
ڈیجیٹل ریڈ بک تک کس کی رسائی ہوگی؟
یہ مکمل اور انتہائی تفصیلی ڈیٹا بیس ایف آئی اے حکام کو آن لائن دستیاب ہوگا۔ تاہم، حکام کو مشتبہ افراد کی شناخت اور تلاش میں مدد فراہم کرنے کے لیے اس کا ایک مخصوص حصہ عوام کے لیے بھی دستیاب کیا جائے گا۔
کیا یہ سسٹم کسی مخصوص قسم کے جرم کو ٹارگٹ کر رہا ہے؟
اگرچہ یہ سسٹم تمام قسم کے منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کی خاص توجہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس پر ہے۔ یہ ڈیٹا بیس سمگلروں کے راستوں کو ٹریک کرتا ہے اور اس وقت اس میں 143 ایسے ملزمان شامل ہیں جو ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹس کو مطلوب ہیں۔






