کیا پاکستان T20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت کا سامنا کرنے کے لیے میدان میں اترے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو کپتان سلمان آغا کی جانب سے روایتی حریف کے خلاف ممکنہ ہائی اسٹیک ناک آؤٹ میچ کے لیے ٹیم کے لائحہ عمل کے انکشاف کے بعد ہر زبان پر ہے۔
ٹورنامنٹ پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف گروپ اسٹیج میچ کھیلنے سے انکار کے باعث تنازعات کا شکار ہے۔ کپتان نے واضح کیا کہ ناک آؤٹ میچ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ صرف اسلام آباد (حکومت) کے ہاتھ میں ہے۔
T20 ورلڈ کپ کے لیے حکومتی مشورہ
کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا نے اس بات پر زور دیا کہ کرکٹ ٹیم ریاستی ہدایات پر عمل پیرا ہے۔ اگرچہ 15 فروری کو ہونے والا گروپ اسٹیج میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حتمی ہے لیکن ممکنہ سیمی فائنل یا فائنل کا ٹکراؤ ابھی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
سلمان آغا نے کہا:
"انڈیا کا میچ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ حکومت کا فیصلہ تھا۔ اگر ہم سیمی فائنل یا فائنل میں پہنچتے ہیں اور ہمارا میچ انڈیا کے ساتھ طے ہوتا ہے تو ہم دوبارہ حکومت سے مشاورت کریں گے اور ان کے مشورے پر عمل کریں گے۔”
پاکستان کے اس اصولی موقف کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑے گی۔ گروپ میچ ہارنے (Forfeit) کی صورت میں "گرین شرٹس” دو اہم پوائنٹس سے محروم ہو جائیں گے اور ان کے نیٹ رن ریٹ (NRR) کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس سے گروپ کے دیگر حریفوں نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
آغا نے دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا: "ہم سمجھتے ہیں کہ غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔ لیکن ہماری توجہ اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز ہے۔”
بنگلہ دیش T20 ورلڈ کپ سے باہر
بنگلہ دیش کی ٹورنامنٹ سے بے دخلی اور اسکاٹ لینڈ کی جانب سے متبادل کے طور پر شمولیت کے بعد ٹورنامنٹ کی فضا پہلے ہی گرم ہے۔ بنگلہ دیش نے انڈیا کا سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آغا نے بنگالی ٹیم کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"یہ بدقسمتی ہے کہ بنگلہ دیش یہاں نہیں ہے… ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری حمایت کریں گے۔”
میدان سے باہر کے ڈراموں کے باوجود پاکستان ٹیم بھرپور اعتماد کی لہر پر سوار ہے۔آغا نے کہا: "یہ دوسرے گھر جیسا لگتا ہے۔ یہ میرا چھٹا دورہ ہے۔” ان کا اشارہ واضح تھا کہ اگرچہ سیاست پیچیدہ ہے لیکن ٹیم کا مشن سادہ ہے: ورلڈ کپ جیتنا۔






