اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 5000 روپے کے کرنسی نوٹ کی بندش (Demonetization) کے حوالے سے جاری افواہوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے وضاحت کی کہ بڑے نوٹ کو گردش سے واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
یہ بیان مارکیٹ کے لیے ایک ریلیف کے طور پر سامنے آیا ہے جس سے تاجروں اور عام عوام میں پائی جانے والی قیاس آرائیوں اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا ہے۔
گورنر جمیل احمد نے نوٹ کو برقرار رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 5000 روپے کے نوٹ کو بند کرنے کا مارکیٹ پر اہم اور خلل ڈالنے والا اثر (Disruptive Impact) پڑے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے بھی اس نقطہ نظر کی تائید کی۔ انہوں نے کمیٹی کو خبردار کیا کہ اس نوٹ کے ختم کرنے پر بات کرنا بھی معیشت میں سنجیدہ غیر یقینی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہ بڑے لین دین میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
پانچ ہزار کے نوٹ ختم کرنے سے متعلق اہم بیان۔ pic.twitter.com/RuYJGB21cI
— CityNews021 (@CityNews021) February 4, 2026
کرنسی کے نئے ڈیزائن منظور
اگرچہ نوٹ کی مالیت (Denomination) برقرار رہے گی لیکن کرنسی کی ظاہری شکل تبدیل ہونے والی ہے۔ گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک بورڈ نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے۔
نئی سیریز میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہوں گی:
نئے رنگ (Revised Color Schemes): کرنسی کو نئی اور تازہ شکل دینے کے لیے۔
بہتر سیکیورٹی فیچرز: جن کا مقصد جعلی نوٹوں کی روک تھام اور نوٹوں کی پائیداری کو بہتر بنانا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی بینک کرنسی کی تبدیلی کے حوالے سے یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ اس عمل کے لیے سخت منظوری درکار ہوتی ہے:
اسٹیٹ بینک بورڈ: ڈیزائن کی منظوری دیتا ہے (جو مکمل ہو چکا ہے)۔
وفاقی حکومت/کابینہ: عمل درآمد کے لیے باضابطہ منظوری دینا لازمی ہے۔
حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آنے والی تبدیلیاں صرف کرنسی کے ڈیزائن اور سیکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق ہیں کسی موجودہ نوٹ کو بند کرنے سے نہیں۔






