پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے آئندہ سیزن کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ایس ایل کے گیارھویں ایڈیشن میں پہلی بار روایتی ڈرافٹ سسٹم کے بجائے پلیئر آکشن ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔
بورڈ کے مطابق یہ دس سالہ کامیاب سفر کے بعد ایک تاریخی قدم ہے جس کا مقصد لیگ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن کیوں لایا گیا؟
پی سی بی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن ٹیموں کے درمیان توازن بہتر کرے گا۔ اب فرنچائزز بند ڈرافٹ کے بجائے کھلے انداز میں کھلاڑیوں پر بولی لگا سکیں گی۔
اس تبدیلی سے شفافیت بڑھے گی کھلاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو بہتر ہوگی اور ہر ٹیم کو مضبوط اسکواڈ بنانے کا مساوی موقع ملے گا۔
پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن میں ریٹینشن رولز
نئے پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن نظام کے تحت ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑی برقرار رکھ سکے گی اور ہر کیٹیگری سے صرف ایک کھلاڑی رکھا جا سکے گا۔
اس سے پہلے ٹیمیں آٹھ کھلاڑی، مینٹور، برانڈ ایمبیسیڈر اور رائٹ ٹو میچ کے ساتھ نویں کھلاڑی کو بھی رکھ سکتی تھیں مگر اب یہ تمام سہولتیں ختم کر دی گئی ہیں۔
نئی شامل ہونے والی ٹیموں کو بھی نیلامی سے پہلے چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت ہوگی۔
Major structural reforms announced as New Era dawns upon HBL PSL
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) January 19, 2026
Details here ➡️ https://t.co/m4dRTgtarg #HBLPSL | #NewEra https://t.co/iAfJz1VbLE
پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن میں غیر ملکی کھلاڑی کا آپشن
پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن میں فرنچائزز کو ایک ایسا غیر ملکی کھلاڑی براہِ راست سائن کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو پی ایس ایل 10 میں شامل نہیں تھا۔
اس فیصلے سے ٹیمیں نئی بین الاقوامی صلاحیتوں کو اپنے اسکواڈ میں شامل کر سکیں گی۔
پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن میں بجٹ میں اضافہ
پی سی بی نے پی ایس ایل 11 پلیئر آکشن کے تحت ہر فرنچائز کا سیلری بجٹ بڑھا کر 16 لاکھ ڈالر کر دیا ہے۔
بورڈ کے مطابق اس اضافے کا مقصد کھلاڑیوں کی بہتر حوصلہ افزائی اور عالمی معیار کے کرکٹرز کو لیگ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔






