پشتو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ایک چمکتا دمکتا ستارہ کھو بیٹھی ہے۔ معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین میروَاس جن کا اصل نام حیات خان تھا جمعرات کے روز مردان میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے خاندان نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
میروَاس کو چارسدہ کے اپنے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے ۔ فنکاروں، مداحوں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور اس عظیم فنکار کو آخری الوداع کہا۔
میروَاس کافی عرصے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور زیادہ تر وقت بستر پر ہی گزار رہے تھے۔ گزشتہ ماہ جب ان کی طبیعت مزید خراب ہوئی تو انہیں پشاور کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ایک ہفتہ قبل انہیں مردان منتقل کیا گیا جہاں ایک مقامی ہسپتال میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
مداحوں اور دوستوں نے ان کی وفات کو پشتو کامیڈی کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیاہے۔ بعض افراد نے انہیں عمر شریف سے بھی تشبیہ دی کیونکہ ان کا اندازِ مزاح بے ساختہ اور بے حد پراثر تھا۔
میروَاس کے حالات زندگی
1955 میں تحصیل ٹانگی، ضلع چارسدہ میں پیدا ہونے والے میروَاس بچپن سے ہی لوگوں کو ہنسانے کا ہنر رکھتے تھے۔ اسکول کے دنوں میں وہ ہر ہفتے کے روز کلاس فیلوز کو اپنی مزاحیہ باتوں سے محظوظ کیا کرتےتھے۔
ان کی ذہانت اور بھرپور حسِ مزاح اور طنزیہ انداز نے جلد ہی انہیں ایک جانا پہچانا نام بنا دیا۔ وہ 30 سال کی عمر تک ریڈیو، ٹی وی اور اسٹیج پر باقاعدگی سے پرفارم کرنے لگے تھے۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پشتو بولنے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
میروَس صرف ہنسی مذاق کے ماہر نہیں تھے وہ اپنے فن کے ذریعے معاشرتی مسائل کو بھی اجاگر کرتےتھے۔ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف ان کا پیغام خاص طور پر بہت مقبول ہوا اور اس نے انہیں بے پناہ عزت دلوائی۔
ان کی کامیڈی عام آدمی کے مسائل کو اجاگر کرتی تھی۔انہوں نے خلیجی ممالک اور یورپ سمیت 20 سے زائد ممالک میں پاکستان اور خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار پرفارمنس دیکھائی۔
میروَاس کے اعزازات
میروَاس کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ادبی و ثقافتی اداروں کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے نام سے 800 سے زائد آڈیو/ویڈیو البمز موجود ہیں۔ 2018 میں انہوں نے طنز و مزاح پر مبنی اشعار کی کتاب بھی شائع کی۔