روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے اقدام کے طور پرحکومتِ سندھ نے باضابطہ طور پر پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم لانچ کر دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل اپ گریڈ کے ساتھ ہی صوبے بھر میں چلنے والی تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس (third-party insurance) کو سختی سے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد ٹریفک حادثات سے متاثرہ کم آمدنی والے خاندانوں کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنا اور جعلی انشورنس پالیسیوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
یہاں وہ تمام تفصیلات دی گئی ہیں جو سندھ میں گاڑیوں کے مالکان کو نئے قواعد اور معاوضے کی پالیسیوں کے حوالے سے جاننا ضروری ہیں۔
گاڑیوں کے مالکان کے لیے نئے اور سخت قوانین
نئے تھرڈ پارٹی انشورنس قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت ایک کارآمد (valid) انشورنس پالیسی کا ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی گاڑی کی انشورنس نہیں ہوگی تو مالکان کو درج ذیل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا:
کوئی رجسٹریشن نہیں: کارآمد انشورنس کے ثبوت کے بغیر نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن نہیں کی جائے گی۔
ٹوکن ٹیکس کی وصولی نہیں: حکام بغیر انشورنس والی گاڑیوں کا سالانہ ٹوکن ٹیکس وصول کرنے سے انکار کر دیں گے۔
ملکیت کی منتقلی (Transfer) نہیں: گاڑی کی ملکیت کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کرنے کے لیے اب کارآمد انشورنس کا ہونا ایک لازمی شرط ہے۔
KARACHI: The Sindh govt has launched 🇵🇰’s first digital insurance monitoring system & mandated third-party insurance for all vehicles in the province.
— Raza Dharejo PPP (Official) (@RazaDharijo) March 8, 2026
This initiative aims to enhance road safety & ensure financial protection for traffic accident victims.https://t.co/JIu5tMp17n
ٹریفک حادثات کے متاثرین کے لیے مالی معاوضہ
اس اقدام کو سہولت بخش بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے موجودہ سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا ہے۔ یہ ترمیم قانونی طور پر ٹریفک حادثات کے متاثرین کے لیے مالی معاوضہ متعارف کراتی ہے۔
متاثرین یا ان کے ورثاء کو فراہم کیے جانے والے مالی ریلیف کی تفصیل درج ذیل ہے:
| حادثے کا نتیجہ | مالی معاوضہ |
| ٹریفک حادثے میں موت | 7 لاکھ روپے (ورثاء کو ادا کیے جائیں گے) |
| معذوری کا سبب بننے والی چوٹ | 5 لاکھ روپے |
شفافیت اور عوامی آگاہی مہم
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس اقدام کو شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ نیا ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم خاص طور پر انتہائی شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو جعلی انشورنس دستاویزات استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو مؤثر طریقے سے روک دے گا۔
حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو اس نئے قانون کے فوائد اور مخصوص تقاضوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک وسیع عوامی آگاہی مہم شروع کریں۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا حتمی مقصد صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں ہے، بلکہ عوام کو بامقصد خدمات اور حقیقی مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سندھ میں نیا ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم کیا ہے؟
یہ حکومتِ سندھ کی جانب سے الیکٹرانک طور پر گاڑیوں کی انشورنس کی تصدیق کے لیے ڈیزائن کیا گیا پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل سسٹم ہے جس میں جعلی پالیسیوں کے خاتمے کے لیے تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اگر سندھ میں میری گاڑی کی تھرڈ پارٹی انشورنس نہیں ہے تو کیا ہوگا؟
کارآمد انشورنس کے بغیر آپ کی گاڑی رجسٹر نہیں کی جائے گی اس کا ٹوکن ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا اور آپ گاڑی کی ملکیت کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کر سکیں گے۔
نئے قانون کے تحت سڑک حادثات کے متاثرین کو کتنا معاوضہ دیا جاتا ہے؟
ترمیم شدہ سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت، ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے ورثاء کو 7 لاکھ روپے ملیں گے جبکہ معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔






