پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ 5G نیلامی میں دیا جانے والا تمام سپیکٹرم (Contiguous Blocks) کی صورت میں الاٹ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد سپیکٹرم کے ٹکڑوں میں بٹ جانے (Fragmentation) کے خدشات کو دور کرنا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اسائنمنٹ سٹیج (Assignment Stage) میں ہر سپیکٹرم بینڈ کے اندر فریکوئنسی کی درست پوزیشن کا تعین کیا جائے گا۔
بولی لگانے کا طریقہ کار: ٹاپ، مڈل یا باٹم؟
پی ٹی اے کے مطابق بولی دہندگان (Bidders) مخصوص فریکوئنسی ویلیوز کے بجائے بینڈ کے اندر (Relative Positions) کے لیے مقابلہ کریں گے۔ ان پوزیشنز کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
اوپری حصہ (Top)
درمیانی حصہ (Middle)
نچلا حصہ (Bottom)
اتھارٹی نے وضاحت کی ہے کہ جب ایک ہی بینڈ میں متعدد کمپنیاں سپیکٹرم جیتیں گی تو "درمیانی پوزیشن” والوں کی فریکوئنسی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹاپ اور باٹم کی پوزیشنز کس نے حاصل کی ہیں۔ یعنی درمیانی پوزیشن کے لیے بولی لگانے والوں کو نیلامی کے وقت اپنی درست فریکوئنسی لوکیشن معلوم نہیں ہوگی۔
یہ اسائنمنٹ کا ڈھانچہ تمام سپیکٹرم بینڈز پر لاگو ہوگا بشمول 2600 MHz اور 3500 MHz کی رینجز۔
پی ٹی اے نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں جو سپیکٹرم فروخت نہیں ہو سکے گا (Unallocated) اسے بینڈ کے ٹاپ پر رکھا جائے گا (یعنی 3580 میگا ہرٹز سے نیچے سب سے زیادہ دستیاب فریکوئنسیز)۔ دیگر بینڈز کے لیے فروخت نہ ہونے والے سپیکٹرم کی جگہ کا تعین انفارمیشن میمورنڈم میں دیے گئے قواعد کے مطابق ہوگا۔
قیمتوں کا تعین
اتھارٹی نے کہا کہ اسائنمنٹ سٹیج بھی انہی پرائسنگ اصولوں کی پیروی کرے گی جو ایلوکیشن سٹیج (Allocation Stage) کے لیے طے کیے گئے ہیں۔
اسائنمنٹ کی قیمتیں ایلوکیشن کی قیمتوں کے علاوہ وصول کی جائیں گی۔اس مرحلے کے لیے ابتدائی قیمت (Opening Price) صفر مقرر کی گئی ہے۔




