حال ہی میں پاکستان پاسپورٹ ہینلے انڈیکس 2026 اس وقت خبروں کی زینت بنا جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاسپورٹ کی درجہ بندی 126ویں نمبر سے بڑھ کر 98ویں نمبر پر آ گئی ہے۔ کئی میڈیا اداروں نے بھی اس دعوے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی اصل رپورٹ کیا کہتی ہے؟
ہینلے کی 2026 کی سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان واقعی 98ویں نمبر پر ہے تاہم یہ پوزیشن پاکستان کو دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رکھتی ہے۔ اس فہرست میں پاکستان یمن کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ صرف عراق، شام اور افغانستان اس سے نیچے ہیں۔
ویزا فری سفری سہولت میں کوئی اضافہ نہیں
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اب بھی صرف 31 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سفر کر سکتے ہیں۔ یہ تعداد اکتوبر 2025 سے بالکل تبدیل نہیں ہوئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سفری سہولت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ پاکستان کبھی 126ویں نمبر پر تھا۔ گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان کی کم ترین درجہ بندی 113ویں نمبر پر 2021 میں رہی۔ چونکہ کئی ممالک ایک ہی رینک شیئر کرتے ہیں اس لیے درجہ بندی میں معمولی تبدیلی کو بڑادکھایا جا رہا ہے۔
اگرچہ پاکستان کی رینکنگ 102 سے 98 پر آئی ہے لیکن عملی طور پر پاکستان پاسپورٹ ہینلے انڈیکس 2026 میں کوئی حقیقی بہتری نظر نہیں آتی اور سفری آزادی وہی کی وہی ہے۔






