پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا – PECA) کے تحت گرفتار کینیڈین طالب علم حمزہ احمد خان کی رہائی کے لیے لاہور کی ایک خصوصی عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ اسد جمال کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے ان کی گرفتاری کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پی ایچ ڈی اسکالر اور کراچی کے رہائشی حمزہ اپنی فیلڈ ریسرچ کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے جب انہیں اچانک حراست میں لے لیا گیا۔ اس کیس کی سماعت مقرر کر دی گئی ہے جبکہ طالب علم اس وقت کیمپ جیل لاہور میں قید ہے۔
ایف آئی آر (FIR) کی ٹائم لائن میں کیا تضاد ہے؟
درخواست میں حمزہ کی باضابطہ گرفتاری سے قبل ان کی گمشدگی کے حوالے سے تشویشناک تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حمزہ 18 اور 19 فروری کی درمیانی شب رات 1 بجے سے 2 بجے کے درمیان ایک یانگو (Yango) کیب میں سفر کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ تاہم این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے 21 فروری کی صبح 10:45 بجے تک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) درج نہیں کی گئی۔
ان گمشدہ 48 گھنٹوں کے دوران حمزہ کے اہل خانہ اور دوست شدید ذہنی اذیت کا شکار رہے۔ مزید برآں درخواست میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ اور قانونی ٹیم کو الزامات کی اصل نوعیت کے بارے میں مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ بار بار درخواستوں کے باوجود حکام نے انہیں ایف آئی آر کے ساتھ منسلک مبینہ سوشل میڈیا پوسٹس (Annexures) تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔
Mysteriously Missing Canadian National Comes into Light…..
— Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) February 23, 2026
National Cyber Crimes Investigation Agency (NCCIA) booked Canadian National of Pakistani Origin, academic and social media activist @Hamzakk under PECA after four days of disappearing mysteriously from Lahore. pic.twitter.com/fOVZqO6f6Q
ماہرین اس حراست کو غیر قانونی کیوں قرار دے رہے ہیں؟
قانونی ماہرین اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے حمزہ کی گرفتاری کے طریقہ کار کی شدید مذمت کی ہے۔ ایڈووکیٹ اسد جمال نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے سے قبل کسی شہری کو لگ بھگ تین دن تک حراست میں رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ قانون کے مطابق حراست میں لیے جانے کے 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہے عدالتی ریمانڈ کے بغیر اس مدت سے زیادہ حراست غیر آئینی ہے۔
ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے مزید کہا کہ این سی سی آئی اے نے پیکا کے معیاری پروٹوکول کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ قانون کے تحت پہلے انکوائری ہونی چاہیے ملزم کو نوٹس بھیجا جانا چاہیے اور باقاعدہ فردِ جرم عائد کرنے سے پہلے سماعت کا موقع دیا جانا چاہیے۔ حمزہ کے کیس میں ان تمام قانونی حقوق کو نظر انداز کیا گیا جس سے فیئر ٹرائل (شفاف ٹرائل) کے حق کی سنگین خلاف ورزی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
حمزہ پر پیکا کی کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا؟
این سی سی آئی اے نے حمزہ کے خلاف پیکا (PECA) 2016 کی دفعات 20، 24 اور 26 اے کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ مخصوص دفعات کسی شخص کے وقار کے خلاف جرائم، سائبر اسٹاکنگ اور غلط معلومات پھیلانے سے متعلق ہیں۔
چونکہ ان الزامات میں دہشت گردی اہم تنصیبات پر حملے یا قومی سلامتی کے ہنگامی خطرات شامل نہیں ہیں اس لیے قانونی ماہرین کا استدلال ہے کہ ابتدائی 48 گھنٹے جن کے دوران حمزہ لاپتہ تھےانتہائی مشکوک اور قانونی طور پر بلاجواز ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دفاعی ٹیم کو الزامات کی درست اور مکمل نوعیت سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
حمزہ احمد خان کون ہیں؟
حمزہ احمد خان کراچی کے رہائشی اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ وہ حراست میں لیے جانے سے قبل اپنی ریسرچ اور انٹرویوز کے سلسلے میں لاہور، پاکستان آئے ہوئے تھے۔
کینیڈین طالب علم کو پیکا کے تحت کیوں گرفتار کیا گیا؟
انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 20، 24، اور 26 اے کے تحت گرفتار کیا، جو سائبر اسٹاکنگ، غلط معلومات پھیلانے اور وقار کے خلاف جرائم سے متعلق ہیں۔
حمزہ کی گرفتاری میں قانونی خامی کیا ہے؟
حمزہ 18 فروری کی رات کو لاپتہ ہوئے لیکن ان کی ایف آئی آر 21 فروری تک درج نہیں کی گئی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی شہری کو باضابطہ عدالتی ریمانڈ کے بغیر 24 گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھنا غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے۔






