جمعہ کے روز میانمار اور تھائی لینڈ میں شدید زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں ۔
زلزلے کی شدت 7.7 اور مقام شمال مغرب سگائنگ میانمار بتایا جارہا ہے۔
جبکہ 6.4 شدت کا آفٹر شاک چند منٹ بعد محسوس کیا گیا۔
زلزلے کے باعث بینکاک میں زیر تعمیر ایک 30 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی جو حکومتی دفاتر کے لیے بنائی جا رہی تھی۔ یہ عمارت چند سیکنڈز میں ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں 43 مزدور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
تھائی وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا نے فوراً اپنا فنکٹ کا سرکاری دورہ منسوخ کر کے ملک بھر میں ایمر جنسی کا اعلان کر دیا۔
شمالی تھائی لینڈ میں زلزلے کے جھٹکوں سے عوام خوفزدہ ہوگئی خاص طور پر سیاحتی مقام چیانگ مائی میں لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
میانمار کے دارالحکومت نیپیداو میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
منڈالے ایئرپورٹ پر خوفزدہ مسافروں کو بھاگتے اور باہر زمین پر بیٹھتے دیکھنے کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں ۔
🇲🇲🇹🇭- Passengers at Mandalay International Airport laying down on the tarmac as planes tilt from the #earthquake.
— Emeka Gift Official (@EmekaGift100) March 28, 2025
Flights out of Mandalay have been grounded due to the earthquake. pic.twitter.com/zz36CI9wBa
سڑکوں میں دراڑیں پڑنے سے ریسکیو ٹیموں کو امدادی کاموں میں
مشکلات کا سامنا ہے۔
بینکاک میں میٹرو اور لائٹ ریل سروسز حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر معطل کردی گئیں ہیں۔
بینکاک کے گورنر چاڈچارٹ سیتپنت نے زلزلے کی تباہیوں سے نمٹنے کے لیے فوری ریسپانس سینٹر کے قیام کا حکم دیا ہے اور تمام اضلاع و اسپتالوں کو نقصانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس عوام کو غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہنے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔