Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

بلوچستان لبریشن آرمی کی تاریخ: کب اور کیوں وجود میں آئی؟ 

حرا خلیل by حرا خلیل
اگست 27, 2024
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, پاکستان کی سیاسی خبریں – حکومت، اپوزیشن اور انتخابی اپ ڈیٹس, علاقائی اور صوبائی خبریں – پنجاب، سندھ، KPK اور بلوچستان
بلوچستان لبریشن آرمی کی تاریخ کب اور کیوں وجود میں آئی؟ 

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک قوم پرست عسکریت پسند تنظیم ہے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 2000ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا اور بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے لیے کام کرنا ہے۔ بی ایل اے کی جڑیں بلوچ قوم پرست تحریکوں میں ہیں جو 1947ء کے بعد سے ہی بلوچستان میں فعال رہی ہیں۔ یہ تنظیم پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے۔

 بلوچستان لبریشن آرمی کی تاریخ

بلوچستان لبریشن آرمی کا قیام 2000ء میں ہوا لیکن اس کے عسکریت پسندانہ اقدامات کی تاریخ بلوچستان میں جاری کئی دہائیوں کی قومی و عسکری جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ بی ایل اے کا قیام بلوچ سرداروں اور قوم پرست رہنماؤں کی سرپرستی میں ہوا جن کا الزام تھا کہ بلوچستان کی معدنیات اور وسائل کی تقسیم میں بے انصافی کی گئی ہے۔ اس تنظیم نے ہمیشہ پاکستانی فوج، سیکورٹی اداروں، اور حکومتی انفراسٹرکچر کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

بی ایل اے تنظیم کے مقاصد اور طریقہ کار

بی ایل اے کا مقصد بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ ریاست تسلیم کروا کر ایک آزاد بلوچ ریاست کا قیام ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بی ایل اے مختلف عسکری کارروائیوں کا سہارا لیتی ہے جن میں بم دھماکے، راکٹ حملے، اغوا، اور خودکش حملے شامل ہیں۔ بی ایل کی کارروائیاں خاص طور پر پاکستانی سیکورٹی فورسز، گورنمنٹ عہدیداروں اور غیر بلوچ افراد کے خلاف مرکوز ہوتی ہیں۔ گزشتہ روز کیے جانے والے مختلف حملوں میں اسی دہشت گرد تنظیم نے پچاس سے زائد عام پاکستانیوں کی جان لی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی صحت کے حوالے سے اپ ڈیٹ: گرنے سے زخمی

بلوچستان لبریشن آرمی کے اہم عسکریت پسند رہنما

بی ایل اے کے اہم رہنماؤں میں اسلم بلوچ شامل تھے جنہوں نے تنظیم کی کمان سنبھالی اور تنظیم کو مزید منظم اور مضبوط کیا۔ اسلم بلوچ کی زیر قیادت بی ایل اے نے خودکش حملوں کا آغاز کیا جنہیں ‘فدائی حملے’ کہا جاتا ہے۔ ان حملوں نے تنظیم کو مزید متشدد اور خطرناک بنا دیا۔

 بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گرد حملے

بی ایل اے نے مختلف دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں کوئٹہ میں مارکیٹ میں بم دھماکہ، 2005ء میں سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف پر حملے کی کوشش اور 2018ء میں چینی انجینئرز پر خودکش حملہ شامل ہیں۔ بی ایل اے کے حملے اکثر حکومتی انفراسٹرکچر اور غیر بلوچ آبادی کو نشانہ بناتے ہیں۔

بلوچستان لبریشن آرمی پر الزامات

پاکستانی حکومت بی ایل اے پر الزام لگاتی ہے کہ اسے بھارت، امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ تاہم، بی ایل اے نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے مقاصد کو خالصتاً بلوچ قوم پرستی کے جذبے پر مبنی قرار دیا ہے۔

 بلوچستان لبریشن آرمی کی حالیہ سرگرمیاں

حالیہ برسوں میں، بی ایل اے نے اپنی کارروائیوں کو شہری علاقوں تک پھیلایا ہے اور خودکش حملوں سمیت پیچیدہ حملے کیے ہیں۔ اس دہشت گرد تنظیم نے پاکستانی فوج اور سیکورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں جن میں سے کچھ بڑے حملے 2022ء میں نوشکی اور پنجگور میں ہوئے۔

 بلوچستان لبریشن آرمی کا تنظیمی ڈھانچہ

بی ایل اے کے تنظیمی ڈھانچہ میں مختلف بلوچ قوم پرست گروپ شامل ہیں۔ تنظیم نے بلوچ ریپبلکن آرمی اور دیگر بلوچ گروپوں کے ساتھ اتحاد بنایا ہے جسے بلوچ راجی آجویی سنگر (براز) کہا جاتا ہے۔ یہ اتحاد تنظیم کی عسکری قوت میں مزید اضافہ کرنے کا سبب بنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد چیمپئنز ٹرافی 2025 کے سفیروں میں شامل

بلوچستان لبریشن آرمی کی کارروائیاں اور اس کے اثرات بلوچستان میں سیکورٹی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستانی حکومت BLA کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے جبکہ تنظیم اپنے آپ کو بلوچ قوم کے حقوق کے لیے لڑنے والا گروپ کہتی ہے۔ 

حرا خلیل

حرا خلیل

حرا خلیل ایک لائف اسٹائل اور تفریحی صحافی ہیں جو پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری سے متعلق لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں ثقافتی رجحانات، فنونِ لطیفہ، اور شوبز دنیا کی تازہ ترین سرگرمیوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026
ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ

ایکس باکس فری کلاؤڈ گیمنگ: مائیکروسافٹ کا نیا پلان، اب آفیشل گیمز کھیلیں بالکل مفت

جولائی 25, 2026
عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم

عینک والا جن اینیمیٹڈ فلم: 90 کی دہائی کے یادگار شاہکار کی اینیمیشن کے ساتھ  واپسی

جولائی 25, 2026
پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام

پنجاب شرمپ انٹرنشپ پروگرام: نوجوانوں کے لیے 1 لاکھ روپے ماہانہ وظیفے کا شاندار موقع

جولائی 25, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک

سندھ رین ایمرجنسی ڈیسک: کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے پیشِ نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہنگامی سیل قائم

جولائی 25, 2026
پاکستان میں کلائمٹ چینج ایمرجنسی

بدلتا موسم اور ڈوبتے شہر: پاکستان میں کلائمٹ چینج کو قومی ایمرجنسی کیوں قرار نہ دیا گیا؟

جولائی 25, 2026
اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان

اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر پاکستان: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بڑے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا افتتاح

جولائی 25, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.