ایوان صدر کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے
صدر آصف علی زرداری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور وہ اس وقت آئسولیشن میں ہیں۔
یہ خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ صدر آصف علی زرداری کو کراچی کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ انہیں نواب شاہ سے کراچی منتقل کیا گیا ہے جہاں انہوں نے عید الفطر کی نماز ادا کی تھی۔
صدر کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین کے مطابق صدر زرداری کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے جن سے کورونا کی تصدیق ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کا کہنا ہے کہ صدر زرداری ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی زیر نگرانی ہیں اور ان کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے۔ انہیں مکمل صحت یابی تک آئسولیشن میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
کچھ خبروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ صدر آصف زرداری کو علاج کے لیے دبئی منتقل کیا جا رہا ہے تاہم ان اطلاعات کی فوری طور پر تردید کر دی گئی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صدر زرداری کی صحت بہتر ہو رہی ہے اور وہ پاکستان میں ہی زیر علاج ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ صدر کو بیرون ملک منتقل کرنے کی کوئی حقیقت نہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی صدر زرداری کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں بشمول سینیٹر سحر کامران نے بھی صدر زرداری کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
صدر آصف زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مختلف طبی معائنے کروا رہے ہیں اور جلد ہی اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے۔ اس دوران گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی صدر کے معالج سے رابطہ کر کے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا ہے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔